مشی گن چرچ پر فائرنگ، حملہ آور سمیت کم از کم دو افراد ہلاک، 8 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
MICHIGAN:
امریکہ کی ریاست مشی گن میں چرچ آف جیزس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس چرچ میں پیش آنے والے ہولناک فائرنگ کے واقعے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور کی شناخت 40 سالہ تھامس جیکب سینفورڈ کے طور پر ہوئی ہے جو قریبی علاقے برٹن کا رہائشی تھا۔ فائرنگ کے کچھ ہی دیر بعد پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور مارا گیا۔
گرینڈ بلینک ٹاؤن شپ پولیس چیف ولیم رینئے کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے کے صرف آٹھ منٹ بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی اور حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔
زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ باقی سات افراد کی حالت مستحکم ہے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر مقامی ہینری فورڈ جینیسز اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ درجنوں افراد چرچ میں عبادت کے لیے موجود تھے جب حملہ آور نے اپنی گاڑی چرچ کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دی اور پھر باہر نکل کر خودکار ہتھیار سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں چرچ کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا گیا، جسے پولیس کے مطابق حملہ آور نے جان بوجھ کر لگایا تھا۔
بعدازاں آگ پر قابو پالیا گیا تاہم پولیس چیف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید جانی نقصان کا انکشاف ہو سکتا ہے۔
واقعے کے بعد حملہ آور کے گھر کی تلاشی لینے اور اس کے موبائل فون کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ واقعے کے پیچھے محرکات کا پتہ لگایا جا سکے۔
فی الحال حملے کی وجہ یا محرک واضح نہیں ہو سکا، تاہم پولیس اور تفتیشی ادارے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حملہ آور
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں