امریکا میں مشتبہ شہاب ثاقب گرتا ہوا سیٹلائٹ نکلا
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
امریکا میں آسمان پر نمودار ہونے والا مشتبہ شہاب ثاقب اسٹارلنک سیٹلائٹ کی باقیات نکلیں۔
امریکا کی میٹیور سوسائٹی (اے ایم ایس) کو امریکی ریاست جنوبی کیلیفورنیا اور نیواڈا کے آسمان پر شام 7 بجکر 50 منٹ پر شہابِ ثاقب دیکھنے کی 200 سے زیادہ رپورٹس موصول ہوئیں، جبکہ کسی بھی شہاب ثاقب کا دیکھا جانا متوقع نہیں تھا۔
اے ایم ایس نے بتایا کہ آسمان پر دیکھی جانی والی شے شہابِ ثاقب نہیں بلکہ اسٹار لنک کا سیٹلائٹ تھا جو واپس زمین پر گر رہا تھا۔
غیر منافع بخش ایرو اسپیس کارپوریشن (جو گرنے والے سیٹلائٹس کی حرکت کو ٹریک کرتی ہے) کا کہنا تھا کہ متعدد اسٹارلنک سیٹلائٹس کے دوبارہ ایٹماسفیئر میں داخل ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔