امریکا میں مشتبہ شہاب ثاقب گرتا ہوا سیٹلائٹ نکلا
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
امریکا میں آسمان پر نمودار ہونے والا مشتبہ شہاب ثاقب اسٹارلنک سیٹلائٹ کی باقیات نکلیں۔
امریکا کی میٹیور سوسائٹی (اے ایم ایس) کو امریکی ریاست جنوبی کیلیفورنیا اور نیواڈا کے آسمان پر شام 7 بجکر 50 منٹ پر شہابِ ثاقب دیکھنے کی 200 سے زیادہ رپورٹس موصول ہوئیں، جبکہ کسی بھی شہاب ثاقب کا دیکھا جانا متوقع نہیں تھا۔
اے ایم ایس نے بتایا کہ آسمان پر دیکھی جانی والی شے شہابِ ثاقب نہیں بلکہ اسٹار لنک کا سیٹلائٹ تھا جو واپس زمین پر گر رہا تھا۔
غیر منافع بخش ایرو اسپیس کارپوریشن (جو گرنے والے سیٹلائٹس کی حرکت کو ٹریک کرتی ہے) کا کہنا تھا کہ متعدد اسٹارلنک سیٹلائٹس کے دوبارہ ایٹماسفیئر میں داخل ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔