Express News:
2026-07-24@10:28:25 GMT

دورۂ امریکا؛ نیتن یاہو نے قطر سے معافی مانگ لی

اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکا کے دورے کے دوران قطر سے باضابطہ طور پر اُس حملے پر معافی مانگ لی جس میں اس نے دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ انکشاف ایک اسرائیلی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ یہ معافی ایک بڑے معاہدے کا حصہ تھی تاکہ قطر حماس پر دباؤ ڈالے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے 21 نکاتی امن منصوبے کو قبول کرلے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دوحہ میں حملے کے باعث قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر معافی طلب کی۔ تاہم انھوں نے حماس کو نشانہ بنانے کے فیصلے پر افسوس ظاہر نہیں کیا۔

سی این این کے بقول الگ سے ایک باخبر ذریعے نے بھی تصدیق کی کہ نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس سے قطر کے وزیر اعظم کو فون پر گفتگو میں معافی مانگی۔

یاد رہے کہ اسرائیل کے دوحہ میں حماس کی قیادت پر حملے میں ایک قطری سیکیورٹی گارڈ بھی شہید ہوا تھا جس پر نیتن یاہو نے افسوس کا اظہار کیا۔

گزشتہ روز نیتن یاہو نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارا اصل ہدف صرف حماس تھا، اس سے آگے کچھ نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم اس معاملے پر باہمی سمجھ بوجھ پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل اور قطر کے سربراہان کے درمیان کسی باضابطہ رابطے کی خبر منظر عام پر آئی ہے، حالانکہ ماضی میں خفیہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ہوتی رہی ہے۔

یاد رہے کہ آج اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی امریکا آمد سے کچھ دیر قبل ہی صدر ٹرمپ نے امیرِ قطر کو ٹیلی فون کیا تھا اور غزہ جنگ بندی پر ثالثی کے کردار کے بحال کرنے پر گفتگو کی تھی۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو نے

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل