وزیراعظم شہباز شریف کا ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کا خیر مقدم، دو ریاستی حل ناگزیر قرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کو خوش آئند اور بروقت قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ ایجنڈا نہ صرف غزہ میں جاری خونریزی کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل میں فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی بنیاد بھی ڈال سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر چاہتے ہیں کہ فلسطینی عوام کو امن اور آزادی نصیب ہو اور ایسا سیاسی سمجھوتا ہو جس سے خطے میں استحکام پیدا ہو۔ سیاسی استحکام آنے سے معاشی ترقی اور خطے کے عوام کے لیے بہتر مواقع ممکن ہوں گے۔
شہباز شریف نے اس موقع پر امریکی صدر کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے معاملے کو حقیقی نظر سے دیکھا ہے اور وہ ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی سفارتی کاوشیں امن کے قیام میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی تجویز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کا حامی رہا ہے اور آئندہ بھی اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔