پی ایس ایکس 100 انڈیکس آج ایک لاکھ 65 ہزار 493 پوائنٹس کی ریکارڈ بلندی پر بند ہوا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا سلسلہ آج بھی جاری رہا اور 100 انڈیکس 1645 پوائنٹس اضافے سے ایک لاکھ 65 ہزار 493 پوائنٹس کی ریکارڈ بلندی پر بند ہوا۔پیر کو کاروباری ہفتے کے پہلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور 100 انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار 903 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچا تاہم کاروبار کے اختتام پر پوائنٹس میں کچھ کمی ہوئی اور انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار 847 کی سطح پر بند ہوا۔منگل کو کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گی اور انڈیکس نے گزشتہ روز کی بلند ترین سطح کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ۔کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 1268 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس سے انڈیکس ایک لاکھ 65 ہزار 115 پر جا پہنچا۔ 100 انڈیکس نے آج نئی بلند ترین سطح ایک لاکھ 66 ہزار 556 بنائی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایک لاکھ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔