لاہور:

پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب نے جہاں لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا ہے، وہیں ورکنگ اینیملز، خصوصاً گدھے، گھوڑے اور خچر بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ دیہی معیشت میں یہ جانور بنیادی سہولت کار سمجھے جاتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ان کے لیے ایک اور بڑا خطرہ غیرقانونی سلاٹرنگ کی شکل میں سامنے آیا ہے، جو ان کی آبادی کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی مسائل کو بھی بڑھا رہا ہے۔

ورکنگ اینیملز کی فلاح کے لیے سرگرم عالمی ادارے بروک پاکستان کے سربراہ جاوید گوندل کے مطابق پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں مون سون بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات کے بعد اب تک تقریباً پندرہ لاکھ 80 ہزار جانور متاثر ہوئے ہیں۔ اس صورتحال میں بروک پاکستان نے فوری طور پر 29 اضلاع میں اپنی ٹیمیں تعینات کیں۔

ان ٹیموں نے اب تک 7 ہزار 190  گھوڑے، گدھے اور خچروں کا علاج کیا، جبکہ  9 ہزار 846  دیگر مویشیوں کو طبی سہولیات فراہم کیں۔ 7 ہزار 998 جانوروں کو ویکسین دی گئی اور 6 ہزار 754 کو کیڑوں کے خلاف دوائیں فراہم کی گئیں۔ مزید برآں، 2042فیڈ بیگز تقسیم کیے گئے تاکہ جانور بھوک اور کمزوری کا شکار نہ ہوں۔

جاوید گوندل کے مطابق تنظیم نے صرف جانوروں کی ہی نہیں بلکہ ان کے مالکان کی بھی مدد کی۔ اب تک 9 ہزار 76 خاندانوں کو شعور اور آگاہی فراہم کی گئی ہے، جبکہ 636  راشن بیگز اور بنیادی فرسٹ ایڈ کٹس بھی تقسیم کی گئیں۔ مجموعی طور پرساڑھے  8 ہزار زائد گھوڑے اور خچر، ہزاروں دیگر جانور اور اکاون ہزار سے زیادہ خاندان ان امدادی سرگرمیوں سے مستفید ہو چکے ہیں۔

ادھر بروک پاکستان کے ایڈووکیسی مینجر سید نعیم عباس کا کہنا ہے کہ حالیہ آفات سے جانوروں کی اموات کے ساتھ ساتھ غیرقانونی گدھ سلاٹرنگ بھی ان کی آبادی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق ملک میں گدھوں کی موجودہ آبادی 60 لاکھ 47 ہزار ہے، جن میں سے صرف پنجاب میں 24 لاکھ سے زائد موجود ہیں۔ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس گدھوں کی آبادی میں ایک لاکھ نو ہزار کا اضافہ ہوا، لیکن غیرقانونی ذبح خانے اس آبادی پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں اسلام آباد کے تنول علاقے میں قائم ایک غیرقانونی سلاٹر ہاؤس پر چھاپے کے دوران ایک ہزار کلو سے زائد گدھوں کا گوشت ضبط کیا گیا اور پچاس زندہ گدھے بازیاب ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق یہ گوشت لاہور اور اسلام آباد میں فروخت کے لیے تیار کیا جا رہا تھا، جبکہ اصل مقصد ان کی کھالوں اور ہڈیوں کا حصول تھا۔

 نعیم عباس کا کہنا ہے کہ گدھوں کی کھالیں اور ہڈیاں چین کی مارکیٹ میں فوڈ آئٹمز اور مصنوعات کی تیاری کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ افریقہ میں گدھوں کی سلاٹرنگ پر پابندی لگ چکی ہے اور بھارت میں بھی اس رحجان کے باعث ان کی آبادی میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ غیرقانونی تجارت میں گدھوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے دوران جانور زخمی ہو جاتے ہیں اور کئی مر بھی جاتے ہیں۔ یہ صورتحال صحتِ عامہ کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ 70 فیصد بیماریاں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہیں۔

 حکومت نے چین کی چند کمپنیوں کے ساتھ گدھوں کی سلاٹرنگ کے قانونی معاہدے کیے ہیں، تاہم ان میں شرط رکھی گئی ہے کہ یہ کمپنیاں پہلے گدھوں کی افزائش کریں گی اور اس کے بعد ہی ذبح کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی آبادی کے مطابق گدھوں کی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ