ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹ کیس کی سماعت، فردِ جرم عائد لیکن کارروائی مؤخر
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ایف آئی آر نمبر 234/25 (PS FIA-NCCIA) تحت پیکا ایکٹ میں مقدمے کی سماعت ہوئی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس کی سماعت کی۔
فردِ جرم عائد، ملزمان کا جواب مؤخرسماعت کے دوران دونوں ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، تاہم فردِ جرم سننے کے باوجود کوئی جواب نہ دیا۔ دونوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وکیل کرنے کے بعد ہی فردِ جرم پر جواب جمع کرایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ایمان مزاری و شریک حیات ہادی علی چٹھہ کو راہداری ضمانت مل گئی
ہادی علی چٹھہ نے مزید درخواست دائر کی کہ جب تک استغاثہ کی جانب سے تمام متعلقہ دستاویزات فراہم نہیں کی جاتیں، فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔
عدالت کے سوالات اور کارروائیمعاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ فردِ جرم کے وقت کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے بلکہ راولپنڈی میں پیشی پر گئے ہیں۔
اس پر عدالت نے سوال کیا کہ وہ کس سے اجازت لے کر گئے ہیں؟ جج نے استغاثہ کو 11:30 بجے تک ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کیس کی سماعت دوپہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کردی، ساتھ ہی استغاثہ کے گواہان کو بھی طلب کرلیا۔
وارنٹ گرفتاری واپساس حوالے سے صحافی اسد علی طور نے ٹوئٹ کیا کہ عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف جاری ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری واپس لے لیے ہیں اور این سی سی آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ مزید دستاویزات ملزمان کو فراہم کی جائیں۔
????????#BREAKING: Additional district and session judge Afzal Majoka recalled the non bailable arrest warrants of prominent human rights defenders and lawyers @ImaanZHazir and @AdvHadiali and directed NCCIA to provide further documents to the accused.
— Asad Ali Toor (@AsadAToor) October 1, 2025
اسد علی طور کے مطابق ایمان مزاری نے نیا وکالت نامہ جمع کرا دیا ہے جبکہ ہادی علی چٹھہ نے ابھی تک وکیل مقرر نہیں کیا۔
سوشل میڈیا پر ردِعملاس حوالے سے صحافی عمار سولنگی نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا کہ ملزمان جان بوجھ کر کارروائی میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق کل عدالت سے غیر حاضر، آج تاخیری حربے! صاف ظاہر ہے، احتساب سے بچنے کے لیے وقت ضائع کیا جا رہا ہے۔ لیکن جلد گرفتار ہوں گے۔
کل عدالت سے غیر حاضر، آج تاخیری حربے!
ایف آئی آر نمبر 234/25 میں ملزمان ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ جو کل عدالت سے غائب رہے، آج پیش ہوئے لیکن صرف کارروائی کو مزید لٹکانے کے لیے۔
▪ فردِ جرم سنائی گئی تو دونوں نے خاموشی اختیار کی اور کہا وکیل کرنے کے بعد جواب دیں گے۔
▪ ہادی چٹھہ… pic.twitter.com/rW1kv4eHgV
— Ammar Solangi (@fake_burster) October 1, 2025
دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقے اس مقدمے کو آزادی اظہار پر قدغن اور سیاسی دباؤ کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر متنازعہ ٹویٹس کے باعث پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مبینہ طور پر ’نفرت انگیز اور توہین آمیز بیانات‘ سے متعلق ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسد علی طور ایمان مزاری جج محمد افضل مجوکہ عمار سولنگی ہادی علی چٹھہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسد علی طور ایمان مزاری عمار سولنگی ہادی علی چٹھہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت میں کی سماعت کے خلاف کیا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔