ٹرمپ کا 20نکاتی فارمولا مسترد ،فلسطینیوں کیخلاف کوئی بھی ظالمانہ اقدام قابل قبول نہیں‘ مولانا فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اکتوبر2025ء) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20نکاتی فارمولا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف کوئی بھی ظالمانہ اقدام قابل قبول نہیں، آج بروز جمعہ تمام ضلعی ہیڈ کواٹرز میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی کاروائیوں کے خلاف مظاہرے کئے جائیں ۔
انہوں نے ہدایت کی کہ مظاہروں میں صمود فلوٹیلا پر حملے کے خلاف بھر پور احتجاج کیا جائے ۔عبدالغفور حیدری نے کہا کہ خطبا اور ائمہ خطبات جمعہ میں ٹرمپ کے بدنام زمانہ نکات کے خلاف قراردادیں پاس کروائیں ، اہل وطن مظاہروں میں شرکت سے اپنی دینی غیرت و حمیت کا ثبوت دیں ۔ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا کہ اسرائیل فوج کا صمود فلوٹیلا پر حملہ انسایت کے لئے شرمناک ہے، بے بس فلسطینیوں کی طرف امداد لے جانے والے قافلے پر حملہ انسانی تاریخ کے بڑے مظالم میں شمار کیا جائے گا ۔(جاری ہے)
عالم اسلام اور امت مسلمہ کے ہر ہر فرد کو صیہونیت کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا ہوگا ،مسلمان حکمران خواب غفلت میں ہیں ، عوام ان حکمرانوں کو خواب غفلت سے جگائیں ۔ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں امدادی قافلے والوں کے ساتھ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ قافلے میں شامل پاکستان کے نمائندوں نے پوری قوم کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے ،جے یو آئی فلسطینیوں کے لئے کی جانے والی ہر جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے خلاف
پڑھیں:
نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔
رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔