کراچی کی خواتین کے لیے سندھ حکومت نے بڑی خوشخبری کا اعلان کردیا۔

سینیئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق شہر میں پنک بس سروس کا نیا روٹ شروع کیا جا رہا ہے، جو 17 نومبر 2025 سے فعال ہوگا۔ یہ روٹ عبداللہ چوک سے نمائش تک مقرر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: طالبات اور خواتین کے لیے پنک بسیں کہاں سے حاصل کی گئی ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں یہ خواتین کے لیے مختص بسیں دن کے 3 اوقات میں چلیں گی۔

’صبح 8 سے 9 بجے، دوپہر ایک سے 2 بجے اور شام 5 سے 7 بجے۔ اس سروس میں سفر کرنے والی خواتین کے لیے آرام دہ ماحول، بہتر انتظام اور تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔‘

شرجیل میمن نے وضاحت کی کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں خواتین کو روزانہ سفر کے دوران جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، نئی سروس ان مشکلات کو کم کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ خواتین بااعتماد طریقے سے اپنی تعلیم، ملازمت اور روزمرہ کام نمٹا سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بسوں میں سیکیورٹی کارکن، ٹریکنگ سسٹم اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہوگا جبکہ مستقبل میں اس سروس کو مزید علاقوں تک پھیلانے کا ارادہ بھی ہے۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان: خواتین کے لیے پنک بس سروس میں مفت سفر ختم، اب کرایہ دینا پڑے گا

ان کے مطابق یہ منصوبہ خواتین کے لیے زیادہ محفوظ شہری ماحول کی طرف اہم قدم ہے اور صوبائی حکومت آئندہ بھی خواتین کی سہولت کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پنک بس سروس خوشخبری سندھ حکومت کراچی خواتین وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت کراچی خواتین وی نیوز خواتین کے لیے سندھ حکومت

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم