ویب ڈیسک:عصر حاضر میں لوگ نقد رقم کے بجائے کریڈٹ کارڈ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں، کسی کو رقم کی منتقلی یا بلوں کی ادائیگی اب سب اے ٹی ایم کے ذریعہ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ نقدی رکھنے اور لوٹے جانے کے خطرے بھی بچ جاتے ہیں مگر   دنیا کے ڈیجیٹل ہوتے ہی مجرم بھی سائبر کرمنل بن چکے ہیں۔

تفصیلات کےمطابق جب سے لوگوں نے نقدی کی بجائے کریڈٹ کاڑڈ استعمال کرنا شروع کیا تب سے سائبر کرمنلز نے انہیں لوٹنا شروع کر دیا اور آئے روز ایسی وارداتیں سامنے آتی ہیں جس میں سائبر کرائمز کے ذریعہ لوگوں کو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

نائٹ شفٹ میں کام کرنے والوں کو گردے کی پتھری کا زیادہ خطرہ ؛ تحقیق سامنے آگئی

دنیا بھر میں اے ٹی ایم کارڈ کے استعمال کے لیے چار ہندسوں والا خفیہ پن کوڈ ہوتا ہے، جو سوائے کارڈ ہولڈر کے کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ متعلقہ بینک بھی اس سے لاعلم ہوتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود سائبر کرمنل فراڈ کے ذریعہ لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔

اس کی بڑی وجہ اکاؤنٹ ہولڈرز کی جانب سے اپنے اے ٹی ایم کے رکھے جانے والے پن کوڈز ہیں۔ جو صارفین اپنے اے ٹی ایم کارڈ کے لیے پن کوڈ کے لیے عام ہندسے استعمال کرتے ہیں، وہی زیادہ ہیکرز کا شکار بنتے ہیں۔

44 برس سے مسجد نبویﷺ میں قرآن مجید پڑھانے والے پاکستانی نژاد مدرس انتقال کرگئے

ماہرین کے مطابق آسان پن کوڈ چند لمحے میں آپ کا اکاؤنٹ کا صفایا کرا سکتا ہے۔ سائبر ماہرین نے ان پن کوڈز کی نشاندہی بھی کی ہے، جو سائبر کرمنلز کا آسان ہدف ہوتے ہیں۔ یہ عموماً ترتیب وار ہندسے اور دہرائے گئے ہندسوں پر مبنی ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی صارف مثال کے طور پر 1111، 2222، 3333، 0000، 5555 یا ترتیب سے استعمال کیے گئے ہندسوں پر مبنی کوڈ جیسے 1234، 2345، 6789 یا اس کے الٹ جن میں سب سے زیادہ 4321 غیر محفوظ ہے۔

ویل چیئر ٹی ٹونٹی سیریز؛ پاکستان نے 3.

1 سے جیت لی

اسی طرح بعض لوگ اپنی تاریخ پیدائش بطور پن کوڈ استعمال کرتے ہیں جیسے 13 اگست (1308)، 17 دسمبر (1712) یا پیدائش کا سال مثلاً 2025، 1970 یا پھر گاڑی نمبر، موبائل نمبر کے ہندسے پر مبنی کوڈز کا پتہ لگانا بھی ہیکرز کے لیے آسان ہوتا ہے، کیونکہ تاریخ پیدائش، اور سن پیدائش کا سوشل میڈیا اور دیگر دستاویزات سے پتہ لگانا اور بھی زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اور اس کو ہیک کرنے میں صرف چند سیکنڈ ہی لگتے ہیں۔

ماہرین نے محفوظ پن کوڈ کے انتخاب کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایسے ہندسوں کا پن کوڈ بنائیں جو بے ترتیب ہو لیکن آپ اسے ذہن نشین کر لیں۔ اس کے علاوہ ہر 6 یا 12 ماہ بعد اپنا پن کوڈ تبدیل کر لیں۔ پن کوڈ کو موبائل فون یا کہیں بھی لکھ کر محفوظ نہ کریں۔ اس نمبر کو کسی کے ساتھ شیئر بھی نہ کریں اور اگر آپ ایک سے زائد اے ٹی ایم کارڈ رکھتے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر ایک کا پن کوڈ دوسرے سے بہت مختلف رکھیں۔

سکیورٹی سوپروائزر کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: اے ٹی ایم ہوتا ہے کے لیے پن کوڈ

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ فیصلہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے 39 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے اور اب ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے ہوگی۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی قیمتیں آج رات سے نافذ العمل ہوں گی اور 23 جولائی تک برقرار رہیں گی۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ