دورِ نایاب :لاہور میں شاہدرہ سے رائیونڈ اسٹیشن تک 40 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کے ساتھ گرین کوریڈور منصوبے کی منظوری دی گئی ہے، جس پر 1 ارب 77 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔

 ترجمان ذرائع کے مطابق پی ایچ اے کے تحت یہ منصوبہ مکمل کیا جائے گا، جس کے تحت 664 کنال اراضی پر گرین کوریڈور تعمیر کیا جائے گا،3کنال سے8کنال تک ریلوےٹریک کیساتھ ساتھ30سائٹس کی نشاندہی کرلی گئی ہے،اس منصوبے میں ریلوے ٹریک کے ساتھ پارکس، جِنگ ٹریک، اوپن جم، واک ویز، سٹنگ ایریاز، چلڈرن پلے ایریاز، باونڈری فینسز، اور بیڈمنٹن کورٹس شامل ہوں گے۔ منصوبے کو 4 مختلف فیز میں مکمل کیا جائے گا، اور اس کی تکمیل دو سال میں متوقع ہے۔

نائٹ شفٹ میں کام کرنے والوں کو گردے کی پتھری کا زیادہ خطرہ ؛ تحقیق سامنے آگئی

موجودہ حالات میں پی ایچ اے لاہور کے پاس گریں کوریڈورجیسامیگا پراجیکٹ واحدمنصوبہ ہوگا,منصوبے کا پہلا پیکیج ، شاہدرہ سے ریلوے سٹیشن اور دوسرا پیکیج ریلوے سٹیشن تا والٹن ہوگا,تیسرا پیکج والٹن سے کوٹ لکھپت ، چوتھا پیکیج کوٹ لکھپت سے رائیونڈ سٹیشن تک ہوگا،یہ منصوبہ 2018 سے بجٹ میں شامل تھا لیکن اب تک اس پر کام شروع نہیں ہو سکا تھا۔چند روز قبل پی اینڈ ڈی نے اس منصوبے کے ڈیزائن اور فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔

44 برس سے مسجد نبویﷺ میں قرآن مجید پڑھانے والے پاکستانی نژاد مدرس انتقال کرگئے


 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار