دانش تیمور کے پرانے ڈرامے کا بولڈ کلپ وائرل، سوشل میڈیا صارفین کی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کے ہر دلعزیز اداکار دانش تیمور ایک بار پھر سوشل میڈیا کی سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ اس بار وجہ بنی ہے ان کے ایک پرانے ڈرامے کا بولڈ سین، جس کا کلپ اچانک وائرل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مداحوں اور ناقدین کی زبانوں پر دانش تیمور کا چرچا ہونے لگا۔
دانش تیمور گزشتہ کئی برسوں سے ہٹ ڈراموں کا حصہ رہے ہیں اور جارحانہ کرداروں نے انہیں ایک منفرد پہچان دی ہے۔ مداح انہیں عموماً سخت اور غصے والے کرداروں میں دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں، لیکن اب سامنے آنے والے اس پرانے کلپ نے سب کو حیران کر دیا۔ سوشل میڈیا صارفین کہنے لگے کہ ’’یہی وہ دانش تیمور ہیں جنہیں ہم ہیرو کے روپ میں دیکھتے آئے ہیں؟‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ دانش تیمور کو پہلے بھی ڈرامہ سیریل ’من مست ملنگ‘ میں بولڈ سین کرنے پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اس بار معاملہ اور بھی پرانا نکلا۔ وائرل ہونے والے کلپ کے مطابق یہ سین غالباً 2008ء کے ڈرامے کا ہے، جس میں دانش تیمور اور اداکارہ جیا علی کو بولڈ کرداروں میں دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو دیکھنے کے بعد کئی سوشل میڈیا صارفین شاک میں چلے گئے۔ کچھ نے سوال اٹھایا کہ آخر ایسے مناظر پاکستانی ٹی وی چینل پر کیسے نشر کیے گئے؟ جبکہ کچھ لوگوں نے طنزاً کہا کہ ’’اداکاری کی شروعات میں ہی دانش تیمور نے ’بولڈ قدم‘ اٹھا لیا تھا۔‘‘
یاد رہے کہ دانش تیمور کے بارے میں یہ بحث بھی عرصہ دراز سے چل رہی ہے کہ انہیں بار بار ایک ہی طرح کے کرداروں میں کاسٹ کیا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر دانش کو مختلف اور منفرد کردار ملیں تو ان کی اصل اداکاری کی صلاحیتیں سامنے آسکیں گی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا دانش تیمور
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔