Jasarat News:
2026-07-24@05:51:31 GMT

احتجاج اور مظاہرے دبائو بڑھائیں گے

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صمود فلوٹیلا کا مقصد اسرائیلی محاصرے کا شکار نسل کشی اور قحط کا نشانہ بننے والے فلسطینی عوام کو براہ راست امداد فراہم کرنا ہے۔ نہ ان کے پاس ہتھیار ہیں، نہ ہی ان کا کوئی فرد اس کے لیے کسی قسم کا ارادہ رکھتا ہے، ان کا مقصد صرف اور صرف بھوک اور تڑپتے بچوں، عورتوں اور مردوں کو امداد فراہم کرنا ہے لیکن اسرائیلی فوج اُن کے ساتھ ایسے سلوک کررہی ہے جیسے کہ وہ خطرناک ہتھیاروں سے لیس ہوں، ابھی کل ہی اسرائیلی بحریہ نے صمود فلوٹیلا کے 2 جہازوں پر دھاوا بول دیا، تقریباً 20 جنگی جہازوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا، مواصلاتی رابطے منقطع کردیے، انٹرنیٹ اور ریڈار سسٹم چلنا بند ہوگئے، صہیونی افواج نے کشتیوں پر پانی کی توپوں سے حملہ کیا، گندے غلیظ پانی سے نشانہ بنایا۔ ان جہازوں میں کون سے ہتھیار ہیں جن سے اسرائیلی بحریہ خوفزدہ ہے؟ یہ عمل دراصل اسرائیل کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ قحط اور بھوک کا شکار اہل غزہ تک غذائی امداد کو روکنے کے لیے ہر طرح کا طریقہ اختیار کرے گا جس کے لیے پچھلے کئی ہفتوں سے وہ اظہار کررہا تھا۔ عالمی برادری کی یہ پرامن کوششیں اس کو قبول نہیں ہے۔ وہ ایک عام پرامن سویلین مشن پر حملہ کرسکتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی کیا۔ ترک فلوٹیلا پر حملہ کرکے افراد کو شہید اور زخمی کیا۔ غزہ کی سمندری ناکہ بندی توڑنے کے لیے یہ اڑتیس ویں (38) کوششیں ہے۔ جس کی ابتدا 2008ء سے ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غزہ کو دنیا سے کاٹ کر علٰیحدہ کرنے کی اسرائیلی کوششیں کب سے جاری ہیں۔ موجودہ عالمی صمود فلوٹیلا غزہ تک پہنچنے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے اور اس میں 44 ملکوں سے امدادی کارکن شامل ہیں۔ اس کارواں میں پاکستان کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے علاوہ دیگر 5 پاکستانی شامل ہیں۔ جنوبی افریقا سے نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا، سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ، فرانسیسی یورپی رکن پارلیمنٹ ریما حسن اور بارسلونا کے سابق میئر آرا کولائو بھی شریک ہیں۔ اٹلی اور اسپین نے اپنی جنگی کشتیاں بھیج کر فلوٹیلا کی حفاظت کا اعلان کیا تھا۔ لیکن انہوں نے براہ راست تصادم سے انکار کیا۔ انہوں نے صمود فلوٹیلا کے شرکا کو اسرائیل کے ممنوع قرار دیے گئے پانیوں میں داخلے سے منع کیا، لیکن قابض اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں ہی پرامن بحری قافلے کے شرکا کو روک کر رضا کاروں کو گرفتار کرلیا۔ پاکستان کے علاوہ اٹلی، اسپین، یونان اور جنوبی افریقا کے وزیراعظم اور دیگر حکومتی عہدے داروں نے قابض اسرائیلی حکام سے کہا ہے کہ وہ ان غیر مسلح کارکنوں کی سلامتی کو یقینی بنائے کیونکہ یہ کشتیاں اور رضا کار قابض اسرائیل کے لیے کسی خطرے یا خطرناک اقدام کا ارادہ نہیں رکھتے۔ امید ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت انہیں نشانہ نہیں بنائے گی۔

یہی بین الاقوامی دبائو ہے کہ ابھی تک جارحانہ اقدامات کے باوجود قابض اسرائیلی افواج نے رضا کاروں کو براہ راست ہتھیاروں سے نشانہ نہیں بنایا ہے۔ ورنہ اس سے قبل وہ دیگر فلوٹیلا کے رضا کاروں پر براہ ر است فائرنگ کروا کر قتل کرچکے ہیں۔ قابض اسرائیلی وزیراعظم آج خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی سیاسی تنہائی کا شکار ہیں، نئے عبرانی سال کے آغاز پر عوام کے نام اپنے پیغام میں اپنی سیاسی تنہائی کا ذمے دار یورپ کی مسلم اقلیتوں کو قرار دیتے ہیں کہ وہ موثر ہیں اور اپنی حکومتوں پر غزہ کے مسئلے میں دبائو ڈال رہی ہیں۔ صہیونیت کو رد کررہی ہیں، اس کی ایک وجہ وہ ڈیجیٹل انقلاب کو بھی قرار دے رہے ہیں، انہوں نے صاف اعتراف کیا کہ ان کے حریف (مسلم) جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کررہے ہیں، جس کے باعث روایتی میڈیا کی نسبت وہ انہیں زیادہ طاقت عطا کرتی ہے۔ یہ ڈیجیٹل طاقت ہمیں تنہا کررہی ہے۔ ظاہر ہے روایتی میڈیا پر تو کنٹرول کرکے اپنی مرضی کی خبریں دنیا کو بتائی جاسکتی ہیں، لیکن ڈیجیٹل انقلاب دنیا کو وہ بتاتا ہے جو روایتی میڈیا چھپاتے ہیں۔ خود قابض اسرائیلی حکومت کے حزب اختلاف کے رہنما نے نیتن یاہو کے پیغام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ صہیونی اپوزیشن رہنما نیتن یاہو کے اس پیغام کو ’’جنونیت‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اور صہیونی ریاست کی تنہائی کو حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان غلط پالیسیوں نے اسرائیلی ریاست کو تیسری دنیا کے ملک کی مانند بدل دیا ہے۔ ایک دوسرے اپوزیشن رہنما اس پیغام کے بین السطور پیغام کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دراصل نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ ’’مجھے اپنی کرسی بچانے کے لیے ہمیشہ تنہائی اور جنگ درکار ہے‘‘۔

اپوزیشن رہنما پائپرغولان کہتے ہیں کہ ’’ہم اس سال تبدیلی لائیں گے اور ریاست کو بچائیں گے‘‘۔ بات یہی ہے کہ نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیوں، غزہ کے عوام پر قحط مسلط کرنا اور انتہائی مظالم نے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید اور ردعمل پیدا کیا ہے۔ قابض اسرائیل کے مقامی اور عالمی حلقوں میں ریاست کے خلاف مضبوط اور پرزور آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ ان حالات میں صمود فلوٹیلا کے جانباز رضا کاروں کی اپنی زندگیوں کو دائو پر لگا کر کی جانے والی کوششوں نے عالمی دبائو میں بہت اضافہ کیا ہے۔ جس کو قابض اسرائیلی ریاست کو برداشت کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اس دبائو کو بڑھانے اور صمود فلوٹیلا کو قابض اسرائیلی حکومت کی طرف سے روکنے کے خلاف مختلف ملکوں نے مظاہروں اور احتجاج کی کال دی ہے، پاکستان میں بھی تنظیموں نے احتجاج کی کال دی ہے۔ کراچی میں 5 اکتوبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں اہل کراچی کی شرکت لازم ہے۔ وہ مجاہد رضا کار جانوں پر کھیل گئے ہیں ہم بھی گھروں سے نکلیں احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ غزہ کے لیے اکٹھے ہوجائیں، عالمی دبائو بڑھا ہے اسے اور بڑھانا ہے۔

 

غزالہ عزیز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قابض اسرائیلی قابض اسرائیل بین الاقوامی صمود فلوٹیلا اسرائیل کے فلوٹیلا کے رضا کاروں نیتن یاہو ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔

سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘

        View this post on Instagram                      

اداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘

یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔

        View this post on Instagram                      

واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم