Jasarat News:
2026-06-03@02:08:49 GMT

احتجاج اور مظاہرے دبائو بڑھائیں گے

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صمود فلوٹیلا کا مقصد اسرائیلی محاصرے کا شکار نسل کشی اور قحط کا نشانہ بننے والے فلسطینی عوام کو براہ راست امداد فراہم کرنا ہے۔ نہ ان کے پاس ہتھیار ہیں، نہ ہی ان کا کوئی فرد اس کے لیے کسی قسم کا ارادہ رکھتا ہے، ان کا مقصد صرف اور صرف بھوک اور تڑپتے بچوں، عورتوں اور مردوں کو امداد فراہم کرنا ہے لیکن اسرائیلی فوج اُن کے ساتھ ایسے سلوک کررہی ہے جیسے کہ وہ خطرناک ہتھیاروں سے لیس ہوں، ابھی کل ہی اسرائیلی بحریہ نے صمود فلوٹیلا کے 2 جہازوں پر دھاوا بول دیا، تقریباً 20 جنگی جہازوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا، مواصلاتی رابطے منقطع کردیے، انٹرنیٹ اور ریڈار سسٹم چلنا بند ہوگئے، صہیونی افواج نے کشتیوں پر پانی کی توپوں سے حملہ کیا، گندے غلیظ پانی سے نشانہ بنایا۔ ان جہازوں میں کون سے ہتھیار ہیں جن سے اسرائیلی بحریہ خوفزدہ ہے؟ یہ عمل دراصل اسرائیل کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ قحط اور بھوک کا شکار اہل غزہ تک غذائی امداد کو روکنے کے لیے ہر طرح کا طریقہ اختیار کرے گا جس کے لیے پچھلے کئی ہفتوں سے وہ اظہار کررہا تھا۔ عالمی برادری کی یہ پرامن کوششیں اس کو قبول نہیں ہے۔ وہ ایک عام پرامن سویلین مشن پر حملہ کرسکتے ہیں جیسا کہ پہلے بھی کیا۔ ترک فلوٹیلا پر حملہ کرکے افراد کو شہید اور زخمی کیا۔ غزہ کی سمندری ناکہ بندی توڑنے کے لیے یہ اڑتیس ویں (38) کوششیں ہے۔ جس کی ابتدا 2008ء سے ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غزہ کو دنیا سے کاٹ کر علٰیحدہ کرنے کی اسرائیلی کوششیں کب سے جاری ہیں۔ موجودہ عالمی صمود فلوٹیلا غزہ تک پہنچنے کی اب تک کی سب سے بڑی کوشش ہے اور اس میں 44 ملکوں سے امدادی کارکن شامل ہیں۔ اس کارواں میں پاکستان کے سینیٹر مشتاق احمد خان کے علاوہ دیگر 5 پاکستانی شامل ہیں۔ جنوبی افریقا سے نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا، سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ، فرانسیسی یورپی رکن پارلیمنٹ ریما حسن اور بارسلونا کے سابق میئر آرا کولائو بھی شریک ہیں۔ اٹلی اور اسپین نے اپنی جنگی کشتیاں بھیج کر فلوٹیلا کی حفاظت کا اعلان کیا تھا۔ لیکن انہوں نے براہ راست تصادم سے انکار کیا۔ انہوں نے صمود فلوٹیلا کے شرکا کو اسرائیل کے ممنوع قرار دیے گئے پانیوں میں داخلے سے منع کیا، لیکن قابض اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں ہی پرامن بحری قافلے کے شرکا کو روک کر رضا کاروں کو گرفتار کرلیا۔ پاکستان کے علاوہ اٹلی، اسپین، یونان اور جنوبی افریقا کے وزیراعظم اور دیگر حکومتی عہدے داروں نے قابض اسرائیلی حکام سے کہا ہے کہ وہ ان غیر مسلح کارکنوں کی سلامتی کو یقینی بنائے کیونکہ یہ کشتیاں اور رضا کار قابض اسرائیل کے لیے کسی خطرے یا خطرناک اقدام کا ارادہ نہیں رکھتے۔ امید ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت انہیں نشانہ نہیں بنائے گی۔

یہی بین الاقوامی دبائو ہے کہ ابھی تک جارحانہ اقدامات کے باوجود قابض اسرائیلی افواج نے رضا کاروں کو براہ راست ہتھیاروں سے نشانہ نہیں بنایا ہے۔ ورنہ اس سے قبل وہ دیگر فلوٹیلا کے رضا کاروں پر براہ ر است فائرنگ کروا کر قتل کرچکے ہیں۔ قابض اسرائیلی وزیراعظم آج خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی سیاسی تنہائی کا شکار ہیں، نئے عبرانی سال کے آغاز پر عوام کے نام اپنے پیغام میں اپنی سیاسی تنہائی کا ذمے دار یورپ کی مسلم اقلیتوں کو قرار دیتے ہیں کہ وہ موثر ہیں اور اپنی حکومتوں پر غزہ کے مسئلے میں دبائو ڈال رہی ہیں۔ صہیونیت کو رد کررہی ہیں، اس کی ایک وجہ وہ ڈیجیٹل انقلاب کو بھی قرار دے رہے ہیں، انہوں نے صاف اعتراف کیا کہ ان کے حریف (مسلم) جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کررہے ہیں، جس کے باعث روایتی میڈیا کی نسبت وہ انہیں زیادہ طاقت عطا کرتی ہے۔ یہ ڈیجیٹل طاقت ہمیں تنہا کررہی ہے۔ ظاہر ہے روایتی میڈیا پر تو کنٹرول کرکے اپنی مرضی کی خبریں دنیا کو بتائی جاسکتی ہیں، لیکن ڈیجیٹل انقلاب دنیا کو وہ بتاتا ہے جو روایتی میڈیا چھپاتے ہیں۔ خود قابض اسرائیلی حکومت کے حزب اختلاف کے رہنما نے نیتن یاہو کے پیغام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ صہیونی اپوزیشن رہنما نیتن یاہو کے اس پیغام کو ’’جنونیت‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اور صہیونی ریاست کی تنہائی کو حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان غلط پالیسیوں نے اسرائیلی ریاست کو تیسری دنیا کے ملک کی مانند بدل دیا ہے۔ ایک دوسرے اپوزیشن رہنما اس پیغام کے بین السطور پیغام کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دراصل نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ ’’مجھے اپنی کرسی بچانے کے لیے ہمیشہ تنہائی اور جنگ درکار ہے‘‘۔

اپوزیشن رہنما پائپرغولان کہتے ہیں کہ ’’ہم اس سال تبدیلی لائیں گے اور ریاست کو بچائیں گے‘‘۔ بات یہی ہے کہ نیتن یاہو کی جارحانہ پالیسیوں، غزہ کے عوام پر قحط مسلط کرنا اور انتہائی مظالم نے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید اور ردعمل پیدا کیا ہے۔ قابض اسرائیل کے مقامی اور عالمی حلقوں میں ریاست کے خلاف مضبوط اور پرزور آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ ان حالات میں صمود فلوٹیلا کے جانباز رضا کاروں کی اپنی زندگیوں کو دائو پر لگا کر کی جانے والی کوششوں نے عالمی دبائو میں بہت اضافہ کیا ہے۔ جس کو قابض اسرائیلی ریاست کو برداشت کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اس دبائو کو بڑھانے اور صمود فلوٹیلا کو قابض اسرائیلی حکومت کی طرف سے روکنے کے خلاف مختلف ملکوں نے مظاہروں اور احتجاج کی کال دی ہے، پاکستان میں بھی تنظیموں نے احتجاج کی کال دی ہے۔ کراچی میں 5 اکتوبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں اہل کراچی کی شرکت لازم ہے۔ وہ مجاہد رضا کار جانوں پر کھیل گئے ہیں ہم بھی گھروں سے نکلیں احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ غزہ کے لیے اکٹھے ہوجائیں، عالمی دبائو بڑھا ہے اسے اور بڑھانا ہے۔

 

غزالہ عزیز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قابض اسرائیلی قابض اسرائیل بین الاقوامی صمود فلوٹیلا اسرائیل کے فلوٹیلا کے رضا کاروں نیتن یاہو ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان