وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ایمل ولی خان کی سیکیورٹی کیلئے 12 پولیس اہلکار تعینات
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
اے این پی ترجمان احسان اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی خودمختاری اور وفاق پاکستان کے حوالے سے ہائبریڈ رجیم نے عملی طور پر آئین کو معطل کردیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر پولیس نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کو سیکورٹی فراہم کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بعد ایمل ولی خان کی سیکیورٹی کے لیے 12 پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔ اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سے سیکورٹی واپس لے لی گئی تھی جس پر وزیراعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے نوٹس لیتے ہوئے سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ گزشتہ شب وزیراعلٰی کی ہدایت پر ایمل ولی خان کو سیکیورٹی فراہم کردی گئی، 12 پولیس اہکار ایمل ولی خان کی سیکورٹی مامور ہوں گے۔
ان میں سے 4 اہلکار اسلام آباد میں ایمل ولی خان کے ہمراہ ڈیوٹی انجام دیں گے جبکہ باقی 8 پولیس اہلکار ولی باغ چارسدہ میں واقع ان کی رہائش گاہ کی حفاظت پر مامور ہوں گے۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ان سے سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ اے این پی ترجمان احسان اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبائی خودمختاری اور وفاق پاکستان کے حوالے سے ہائبریڈ رجیم نے عملی طور پر آئین کو معطل کردیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایمل ولی خان اے این پی کی ہدایت
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔