کوئٹہ خودکش دھماکا: لواحقین سے رقم لے کر لاشیں دینے کا انکشاف، حقیقت کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں 30 ستمبر کو ماڈل ٹاؤن میں فرنٹیئر کور (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر ہونے والے خودکش حملے کے بعد اب ایک افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے۔ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے 2 افراد کے لواحقین نے الزام لگایا ہے کہ سول اسپتال کوئٹہ میں ان سے لاشیں دینے کے بدلے رقم طلب کی گئی۔
متاثرہ شہری نیاز محمد بڑیچ کے مطابق ان کے والد حاجی نور محمد اور بھائی صابر خان حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ جب سول اسپتال میں لاشوں کی حوالگی کا عمل شروع ہوا تو ایک شخص آیا اور کہا کہ 35 ہزار روپے دیے بغیر میت نہیں ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ دھماکا: سیکیورٹی فورسز نے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی
انہوں نے کہاکہ ہم صدمے میں تھے، سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ رقم کس بات کی مانگی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس اتنی رقم نہیں تھی، اس لیے رشتہ داروں سے پیسے جمع کیے اور آخرکار 16 ہزار روپے دے کر لاشیں حاصل کیں۔
انہوں نے کہاکہ وہ رقم لینے والے شخص کو نہیں جانتے کیونکہ اس نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی، لیکن اگر سامنے لایا جائے تو وہ اسے پہچان لیں گے۔
’ہمارے ہاتھوں میں اپنے باپ اور بھائی کی جلی ہوئی لاشیں تھیں اور اسپتال کے عملے کا یہ رویہ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔‘
یہ انکشاف سامنے آنے کے بعد سول اسپتال انتظامیہ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر عبدالہادی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان الزامات کے بعد مکمل انکوائری کی گئی ہے، تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رقم لینے والا اسپتال کا عملہ نہیں بلکہ ریسکیو سروس کا ایک رضاکار تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اہلکار نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور اس کی شناخت پریڈ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ ایک رضاکار کی غیر اخلاقی حرکت نے پوری سروس پر سوال اٹھا دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد ایدھی سروسز کو سول اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان سے ملاقات کر کے معذرت اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ دھماکا: جاں بحق افراد کی تعداد 13 ہوگئی، وزیراعلیٰ کا ضرورت پڑنے پر ایئر سروس مہیا کرنے کا اعلان
ڈاکٹر عبدالہادی نے کہاکہ پشین اسٹاپ دھماکے کے متاثرین سمیت تمام زخمیوں اور جاں بحق افراد کے لیے تمام خدمات مفت فراہم کی گئیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی مشتبہ عمل یا بدعنوانی کی اطلاع براہ راست اسپتال انتظامیہ کو دی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انکشاف ایم ایس سول اسپتال رقم کی وصولی کوئٹہ خود کش دھماکا لاشوں کی حوالگی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انکشاف ایم ایس سول اسپتال رقم کی وصولی کوئٹہ خود کش دھماکا لاشوں کی حوالگی وی نیوز سول اسپتال انہوں نے کے بعد
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز