ٹیکسیشن پر سرکاری موقف مسترد: شارٹ فال پورا کرنے کیلئے 194 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائیں، آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نمایندہ خصوصی) آئی ایم ایف نے ٹیکسیشن کے حوالے سے سرکاری موقف کو تسلیم نہیں کیا ہے کہ انفورسمنٹ کے اقدامات سے ریونیو شارٹ فال کو پورا کر لیا جائے گا اور اقتصادی ٹیم پر زور دیا ہے کہ اضافی ٹیکس اقدامات اٹھائے جائیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزے کے سلسلے میں پالیسی سطح کے مذاکرات اختتامی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں اور فریقین کے درمیان میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فائنانشل پالیسیز کے مسودے کو حتمی شکل دینے پر مشاورت کی جا رہی ہے۔ ممکنہ طور پر مشن کی آج وفاقی وزیر خزانہ سے ملاقات ہوگی جس میں تمام امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کے مشن کے اعلان کے مطابق آج مشن کے دورے کا آخری روز ہے۔ گزشتہ روز وفاقی سیکرٹری خزانہ اور ایف بی آر کی ٹیم نے آئی ایم ایف کے ساتھ ملاقات کی۔ ذرا ئع نے بتایا ہے کہ پاکستان کا موقف تھا کہ سیلاب کی صورتحال اور دیگر وجوہات کی وجہ سے ریونیو کا شارٹ فال آیا ہے جو ایک وقتی معاملہ ہے اور آئندہ مہینوں میں انفورسمنٹ کو بہتر بنا کر شارٹ فال کو دور کر دیا جائے گا۔ آئی ایم ایف نے اس سے اتفاق نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ نئے ٹیکس اقدامات کیے جائیں تاکہ 194 ارب روپے کے شارٹ فال کو پورا کیا جا سکے۔ آئی ایم ایف کی طرف سے تجویز کیا گیا ہے کہ کھاد پر ایکسائز ڈیوٹی پانچ فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کی جائے۔ کیڑے مار ادویات پر پانچ فیصد ڈیوٹی عائد کی جائے۔ حکومت نے حالیہ تباہ کن سیلاب کے باعث اس معاملے میں رعایت کو مزید ایک سال تک توسیع دینے کے تجویز دی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے 14131 ارب روپے کی سالانہ ٹیکس ہدف میں بھی کمی کی تجویز پر بات چیت ہوئی ہے۔ مذاکرات میں شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن، آٹو پالیسی اور ٹیرف اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کا مقصد چینی کی صنعت پر حکومتی کنٹرول کم کرنا ہے تاکہ مارکیٹ خود قیمتوں اور پیداوار کا تعین کرے۔ آٹو پالیسی کے ذریعے گاڑیوں کی پیداوار، قیمتوں اور ٹیرف کا تعین کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم آفس کی جانب سے بھی صوبائی دارالحکومتوں میں تعینات وفاقی افسران سے رابطہ کرکے انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ زیر التوا معاملات اور آئندہ اہداف پر پیش رفت کو آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدوں کے مطابق ہم آہنگ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے علاقائی کشیدگی میں ممکنہ اضافے کو معیشت کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ کشیدگی بڑھنے سے معاشی شرح نمو میں سست روی کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال سیلاب کے باعث جی ڈی پی گروتھ 4.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف شارٹ فال کے مطابق کا کہنا گیا ہے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔
محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔
حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔