ایف بی آر کے نظام کی خامی سے چینی کی فراہمی متاثر، قیمتیں بڑھنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پنجاب اور سندھ کے شوگر مل مالکان نے شکایت کی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹریک اینڈ ٹریس (ٹی اینڈ ٹی) پورٹل کی بندش کے باعث شوگر ملوں سے مال کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، جس سے ملکی منڈی میں ممکنہ قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین کو ارسال کردہ ایک خط میں نشاندہی کی کہ دونوں صوبوں کی ملز کئی روز سے پورٹل کی غیر فعالیت کے باعث بار بار تعطل کا سامنا کر رہی ہیں۔
ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ خصوصاً ستمبر اور گزشتہ ہفتے کے دوران پورٹل کی بار بار بندش ملوں کو چینی اٹھانے سے روک رہی ہے، جس کے نتیجے میں منڈی میں سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر یہ غیر ضروری رکاوٹیں جاری رہیں تو پیدا ہونے والی قلت مزید مہنگائی کا باعث بن سکتی ہے۔
ملز مالکان کے مطابق خصوصاً جنوبی پنجاب اور اندرونِ سندھ کی ملز میں تعینات ایف بی آر کے اہلکار ملز کے گیٹس پر کلیئرنس نہ دے کر ترسیلات روک رہے ہیں، ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا کہ یہ معمول بنتا جا رہا ہے جس سے سپلائی چین میں سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔