data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور:۔ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ترجمان آفتاب حسین نے اخبارات میں شائع ہونے والی خبر “سرکاری یونیورسٹیوں سے طلبہ تنظیمیں ختم کرنے کا فیصلہ” پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ جمہوری اقدار، آئینی آزادیوں اور نوجوانوں کے مستقبل پر براہِ راست حملہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ طلبہ تنظیمیں دراصل جمہوریت کی نرسریاں ہیں، جو نوجوانوں میں قیادت، مکالمے، تنظیمی شعور اور برداشت کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ ان کا خاتمہ قوم سے قیادت کے ایسے قیمتی درخت کو کاٹ دینے کے مترادف ہے جو آنے والے کل کو سنوار سکتا ہے۔

آفتاب حسین نے کہا کہ حکومت کا یہ اقدام نہ صرف آئین کے آرٹیکل 17 کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف بھی ہے۔ جامعات محض تعلیم کے ادارے نہیں بلکہ تربیتِ قیادت کے مراکز ہیں، جہاں طلبہ کی نمائندہ تنظیمیں شفافیت، احتساب اور جمہوری تربیت کا بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں طلبہ تنظیموں پر پابندی کا تجربہ ناکام ثابت ہوا، جس نے جامعات کو جمود، بے سمتی اور سیاسی انحطاط کی طرف دھکیلا۔ اب ایک بار پھر اسی غلطی کو دہرانا دراصل نوجوان نسل کے اعتماد اور شعور پر حملہ ہے۔

ترجمان اسلامی جمعیت نے کہا کہ حکومت اپنی انتظامی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تعلیمی آزادیوں کو محدود کر رہی ہے، جو کسی بھی طور قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے نوجوان ایسے کسی غیر جمہوری اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے جو ان کی آواز، رائے اور نمائندگی کے حق کو سلب کرے۔

آخر میں آفتاب حسین نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان ملک بھر میں آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد کے ذریعے طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور جامعات میں آزادی اظہار، جمہوری اقدار اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

Aleem uddin.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت نے کہا کہ

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی