صیہونی چالوں سے ہوشیار رہیں، ایران کیجانب سے غزہ میں جنگبندی کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت سوز جرائم کے مرتکب افراد کو پہچان کر، ان کیخلاف عدالتی ٹرائل شروع کرے، تاکہ دہائیوں سے جاری صیہونی رژیم کی بے سزائی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایک بیان جاری کیا۔ جس میں تہران نے وزارت خارجہ کے 6 اکتوبر 2025ء والے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے غزہ میں نسل کشی کو ختم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ ہر اُس اقدام اور پہل کی حمایت کرتی ہے جس میں نسل کش جنگ کو روکنا، قابض فوج کی واپسی، انسان دوست امداد کی رسائی، فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کا حصول شامل ہو۔ بیان میں کہا گیا کہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے جاری فلسطینی عوام کی جائز مزاحمت کے حامی کی حیثیت سے، اسلامی جمہوریہ ایران گزشتہ دو سالوں سے اپنی تمام سفارتی کوششوں کو بروئے کار لاتی رہی تاکہ صیہونی رژیم اور اس کے حواریوں کے ہاتھوں انجام پانے والی نسل کشی کا رواستہ روکا جا سکے اور غزہ کی پٹی سے قابض فورسز کو باہر نکالا جا سکے۔ یہ کوششیں اقوام متحدہ، او آئی سی اور علاقائی سطح پر انجام پاتی رہیں۔
اس بیان میں ایران کی وزارت خارجہ نے استقامتی محاذ کے عظیم شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس کے علاوہ عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ قابض صیہونی رژیم کی عہد شکنیوں کو روکے۔ انہوں نے جنگ بندی کے معاہدے میں اثر انداز اور کردار ادا کرنے والے تمام عناصر کو خبردار کیا کہ وہ صیہونی رژیم کی دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی سے ہوشیار رہیں۔ مذکورہ وزارت خارجہ نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا کہ غزہ میں جرائم اور نسل کشی کو روکنا، حکومتوں اور مجاز بین الاقوامی اداروں کی وہ ذمہ داری ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ اس مشترکہ قانونی، انسانی اور اخلاقی ذمہ داری کو آگے بڑھاتے ہوئے، عالمی برادری جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت سوز جرائم کے مرتکب افراد کو پہچان کر، ان کے خلاف عدالتی ٹرائل شروع کرے، تاکہ دہائیوں سے جاری صیہونی رژیم کی بے سزائی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صیہونی رژیم کی جا سکے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔