افغانستان نے پاکستان میں بےامنی کرنیوالوں کو بسانے کیلئے 10 ارب روپے مانگے: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف—فائل فوٹو
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان نے پاکستان میں بے امنی کرنے والوں کو اپنے ملک میں بسانے کے لیے 10 ارب روپے مانگے تھے، انہیں مغربی افغانستان میں بسانے کا وعدہ کیا، پاکستان نے ان کی واپسی نہ ہونے کی ضمانت مانگی تو انکار کر دیا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ 3 سال قبل میں افغانستان گیا تھا، اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اور سینئر سفارتکار محمد صادق ہمارے ساتھ تھے، ہم نے انہیں کہا کہ آپ کے ملک سے ہمارے ہاں دہشت گردی ہوتی ہے، ان 6 سے 7 ہزار افراد کو کنٹرول کریں، انہوں نے ہمیں کہا کہ آپ ہمیں 10 ارب روپے دیں ہم انہیں مغربی علاقوں میں منتقل کر دیتے ہیں، ہم نے کہا کہ کیا گارنٹی ہے یہ لوگ مغربی علاقوں سے واپس نہیں آئیں گے؟ اس پر وہ گارنٹی دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایک تجویز یہ ہے کہ 2 دن کے اندر وفد کابل جا کر بات کرے ان کے حکمرانوں کو کہے کہ یہ کام بند ہو، اب یہ چیزیں ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیےدرست فیصلے کیے جائیں، ہم نے اگر اب فیصلہ کن اقدامات نہ کیے تو قوم معاف نہیں کرے گی، ان خوارج کے سہولت کار بھی ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ جو افغان باپ دادا کے زمانے سے یہاں رہ رہے ہیں، یہ 60، 70 لاکھ لوگ یہاں بیٹھے ہیں وہ یہاں کاروبار کرتے ہیں، آپ ان افغان سے کہیں کہ پاکستان زندہ باد کہو مگر یہ نہیں کہتے، یہ جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ہمیں من حیث القوم پاکستان کو نقصان پہنچانے والوں کو جواب دینا ہو گا، اس دہشت گردی کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا، جو دہشت گردوں کی مذمت نہیں کرتے، ان کی یہ بات قابلِ قبول نہیں، دہشت گردوں کے لیے کوئی نرم گوشہ اور رعایت قابلِ برداشت نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ کسی علاقے سے نکل کر افواج کو نقصان پہنچاتے ہیں انہیں اس کا حساب دینا ہو گا، دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کو بھی حساب دینا ہو گا، اس سب میں کولیٹرل ڈیمج بھی ہو گا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ملک کے لیے جان دینے والوں کی بطور پوری قوم ہمیں تحسین کرنی چاہیے، جو کردار فوج نے پاک بھارت جنگ کے دوران ادا کیا اس پر لوگ آ کر مبارکباد دیتے ہیں، پاکستان اور فوج کی عزت و وقار سب سے آگے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دفاع خواجہ ا صف کا کہنا ہے کہ والوں کو ا ہے کہ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔