پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف سینئر اداکار اور پروڈیوسر شفقت چیمہ کے اہلِ خانہ نے ان کی بیماری کو طویل عرصے تک میڈیا اور عوام سے پوشیدہ رکھا جس پر اب اداکار کے بیٹے نے ایک انٹرویو میں اس خاموشی پر وضاحت پیش کی ہے۔

شفقت چیمہ کے بیٹے کے مطابا ان کی شخصیت ہمیشہ ایک مضبوط اور بااثر انسان کے طور پر جانی جاتی رہی ہے، اس لیے خاندان نہیں چاہتا تھا کہ مداح انہیں کمزور حالت میں دیکھیں۔

 انہوں نے کہا کہ والد کے بیمار ہونے پر بیرونِ ملک موجود ان کی بہنیں فوری طور پر وطن واپس آئیں، اور سب نے فیصلہ کیا کہ والد کی بیماری کو میڈیا سے دور رکھا جائے تاکہ ان کی عزت و وقار برقرار رہے۔

بیٹے نے مزید کہا کہ مشکل وقت میں خاندان ہی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے اور یہی اصل سرمایہ ہے۔ انہوں نے اداکارہ ریما اور ان کے شوہر، جو کہ ہارٹ اسپیشلسٹ ہیں، کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے شفقت چیمہ کی عیادت میں خصوصی دلچسپی لی اور ان کی صحت سے متعلق فکر مند رہے۔

یاد رہے کہ سینئر اداکار اور پروڈیوسر شفقت چیمہ نے اپنے 35 سالہ کیریئر میں کئی یادگار کردار نبھائے جبکہ انہیں بطور ولن زیادہ پسند کیا گیا۔ ان کی مشہور فلموں میں کالے چور، گاڈ فادر، چوڑیاں، منڈا بگرا جائے اور ہاتھی میرا ساتھی شامل ہیں۔

انہوں نے کئی ٹی وی ڈراموں میں بھی منفی کردار ادا کیے ہیں جن کو ناظرین  کی جانب سے خوب سراہا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شفقت چیمہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا