شفقت چیمہ کی فیملی اداکار کی بیماری کو خفیہ کیوں رکھا؟ بیٹے کی وضاحت سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف سینئر اداکار اور پروڈیوسر شفقت چیمہ کے اہلِ خانہ نے ان کی بیماری کو طویل عرصے تک میڈیا اور عوام سے پوشیدہ رکھا جس پر اب اداکار کے بیٹے نے ایک انٹرویو میں اس خاموشی پر وضاحت پیش کی ہے۔
شفقت چیمہ کے بیٹے کے مطابا ان کی شخصیت ہمیشہ ایک مضبوط اور بااثر انسان کے طور پر جانی جاتی رہی ہے، اس لیے خاندان نہیں چاہتا تھا کہ مداح انہیں کمزور حالت میں دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ والد کے بیمار ہونے پر بیرونِ ملک موجود ان کی بہنیں فوری طور پر وطن واپس آئیں، اور سب نے فیصلہ کیا کہ والد کی بیماری کو میڈیا سے دور رکھا جائے تاکہ ان کی عزت و وقار برقرار رہے۔
بیٹے نے مزید کہا کہ مشکل وقت میں خاندان ہی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے اور یہی اصل سرمایہ ہے۔ انہوں نے اداکارہ ریما اور ان کے شوہر، جو کہ ہارٹ اسپیشلسٹ ہیں، کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے شفقت چیمہ کی عیادت میں خصوصی دلچسپی لی اور ان کی صحت سے متعلق فکر مند رہے۔
یاد رہے کہ سینئر اداکار اور پروڈیوسر شفقت چیمہ نے اپنے 35 سالہ کیریئر میں کئی یادگار کردار نبھائے جبکہ انہیں بطور ولن زیادہ پسند کیا گیا۔ ان کی مشہور فلموں میں کالے چور، گاڈ فادر، چوڑیاں، منڈا بگرا جائے اور ہاتھی میرا ساتھی شامل ہیں۔
انہوں نے کئی ٹی وی ڈراموں میں بھی منفی کردار ادا کیے ہیں جن کو ناظرین کی جانب سے خوب سراہا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شفقت چیمہ
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔