سعودی عرب کی سماجی رہنما رانیہ معلیٰ کو عالمی اعزاز سے نوازا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
سعودی عرب کی معروف سماجی رہنما اور زیڈ اے ڈی کے کلینری اکیڈمی کی بانی و چیئرپرسن رانیہ معلیٰ کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں خدمات پر فیئر سیٹرڈے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
یہ ایوارڈ اسپین کے شہر بلباو میں گوگن ہائم میوزیم میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران دیا گیا، جس میں رانیہ معلیٰ کی سماجی خدمت، قیادت، پائیداری کے فروغ، اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں ان کی کاوشوں کو سراہا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جمانا الراشد ٹائم میگزین کی ’ٹائم 100 نیکسٹ‘ فہرست میں شامل ہونے والی پہلی سعودی خاتون بن گئیں
رانیہ معلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ زادک محض ایک نان پرافٹ کلینری اکیڈمی نہیں بلکہ ایک سماجی تبدیلی کا ذریعہ ہے۔
ان کے مطابق ادارے کا مقصد مقامی ثقافت اور ورثے کا تحفظ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، پائیداری کو فروغ دینا اور سماجی ترقی میں کردار ادا کرنا ہے۔
زادک اکیڈمی سعودی نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتی ہے، جہاں انہیں شیف اور ریستوران مینجمنٹ کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔ اکیڈمی میرٹ پر طلبہ کو وظائف بھی دیتی ہے اور مختلف کورسز جیسے دو سالہ ہائر کلینری ڈپلومہ، ایک سالہ ایسوسی ایٹ ڈپلومہ اور 6 ماہ کا پروفیشنل سرٹیفکیٹ پروگرام پیش کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 110 سالہ سعودی خاتون نے اسکول میں داخلہ لے لیا
ایوارڈ دینے والی تنظیم فیئر سیٹرڈے 2017 میں قائم کی گئی تھی، جس کا مقصد فن و ثقافت کے ذریعے سماجی اثرات پیدا کرنے والے افراد اور اداروں کو اعزاز دینا ہے۔
دیگر ایوارڈ یافتگان میں نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معیشت جوزف اسٹگلس، صحافی مارٹن وولف، اداکارہ اڈجوا اینڈوہ، رقاص احمد جودہ، پیانو نواز جوکین اچوکارو اور ثقافتی تنظیم گیرِدیگا الکارٹیہ شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news خاتون سعودی عرب سیٹرڈے ایوارڈ ماریہ معلیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خاتون ماریہ معلی رانیہ معلی
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔