ڈی آئی خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ، 3 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشت گردوں کی جانب سے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولیس ٹریننگ سینٹر پر 7 سے 8 دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں سے لیس ہو کر اچانک حملہ کیا۔
ایک حملہ آور نے مرکزی دروازے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ پولیس کی بروقت جوابی کارروائی میں 2 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سجاد احمد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں اندھا دھند فائرنگ شروع ہوگئی، جس سے فضا گولیوں کی آوازوں سے گونج اٹھی اور مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے اعجاز شہید پولیس لائنز سے اضافی نفری طلب کرلی گئی ہے جبکہ ڈی پی او سجاد احمد خود موقع پر پہنچ کر آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آوروں نے چاروں اطراف سے پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیا۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر دہشت گردوں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس ٹریننگ سینٹر پولیس لائنز دہشت گرد ڈی پی او سجاد احمد ڈیرہ اسمعیل خان سیکیورٹی فورسز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس ٹریننگ سینٹر پولیس لائنز ڈی پی او سجاد احمد ڈیرہ اسمعیل خان سیکیورٹی فورسز پولیس ٹریننگ سینٹر پر
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔