انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظرعلی گل نے سماعت کی۔ تحریک لبیک کارکنان کیخلاف تھانہ نواں کوٹ میں مقدمہ درج ہوا۔ ملزمان کو پُرتشدد احتجاج اور پولیس پر حملہ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ لاہور پولیس نے موقف اختیار کیا کہ ملزماں نے پولیس پر فائرنگ کی اور ڈنڈوں سے حملہ بھی کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پُرتشدد احتجاج اور پولیس پر حملہ کیس میں تحریک لبیک کے گرفتار کارکنان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے تحریک لبیک  110 کارکنان کا 12 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس نے 110 گرفتار کارکنان کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ملزمان کا 12 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا حکم دیدیا اور ملزمان کو تفتیش کیلئے پولیس کے حوالے کر دیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظرعلی گل نے سماعت کی۔ تحریک لبیک کارکنان کیخلاف تھانہ نواں کوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ملزمان کو پُرتشدد احتجاج اور پولیس پر حملہ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ لاہور پولیس نے موقف اختیار کیا کہ ملزماں نے پولیس پر فائرنگ کی اور ڈنڈوں سے حملہ بھی کیا۔ تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جو عدالت نے منظور کرلی۔ ملزمان میں قاری عمر فاروق، بشارت علی، قاری شبیر احمد فاروقی، حافظ غلام سرور، قاری محمد حسین، قاری محمد اسلم، قاری محمد خورشید، سید حماد علی، عمران حسین، غلام نبی، ناظر حسین عرف نذیر چشتی اور محمد اسامہ سمیت دیگر شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت تحریک لبیک پولیس پر عدالت نے کیا گیا

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا