لاہور، عدالت نے تحریک لبیک کے 110 کارکنوں کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظرعلی گل نے سماعت کی۔ تحریک لبیک کارکنان کیخلاف تھانہ نواں کوٹ میں مقدمہ درج ہوا۔ ملزمان کو پُرتشدد احتجاج اور پولیس پر حملہ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ لاہور پولیس نے موقف اختیار کیا کہ ملزماں نے پولیس پر فائرنگ کی اور ڈنڈوں سے حملہ بھی کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پُرتشدد احتجاج اور پولیس پر حملہ کیس میں تحریک لبیک کے گرفتار کارکنان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے تحریک لبیک 110 کارکنان کا 12 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس نے 110 گرفتار کارکنان کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے ملزمان کا 12 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرنے کا حکم دیدیا اور ملزمان کو تفتیش کیلئے پولیس کے حوالے کر دیا۔ انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج منظرعلی گل نے سماعت کی۔ تحریک لبیک کارکنان کیخلاف تھانہ نواں کوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ملزمان کو پُرتشدد احتجاج اور پولیس پر حملہ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ لاہور پولیس نے موقف اختیار کیا کہ ملزماں نے پولیس پر فائرنگ کی اور ڈنڈوں سے حملہ بھی کیا۔ تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی جو عدالت نے منظور کرلی۔ ملزمان میں قاری عمر فاروق، بشارت علی، قاری شبیر احمد فاروقی، حافظ غلام سرور، قاری محمد حسین، قاری محمد اسلم، قاری محمد خورشید، سید حماد علی، عمران حسین، غلام نبی، ناظر حسین عرف نذیر چشتی اور محمد اسامہ سمیت دیگر شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انسداد دہشتگردی عدالت تحریک لبیک پولیس پر عدالت نے کیا گیا
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔