Daily Sub News:
2026-07-24@11:38:33 GMT

غزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT

غزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

غزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 11 October, 2025 سب نیوز

اسرائیلی فوج کی جانب سے جمعے کی دوپہر 12 بجے سے غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ جمعے کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کے اندر ”آپریشنل پوزیشنز کو ایڈجسٹ“ کر رہی ہے۔ یہ جنگ بندی حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

مصر میں ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کی کامیابی کی صورت میں غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کا خاتمہ یقینی ہے۔ اس معاہدے کی چند اہم شقیں یہ ہیں:

جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کی واپسی:
معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج 24 گھنٹوں کے اندر غزہ کے شہری علاقوں سے پیچھے ہٹ کر طے شدہ لائنز پر واپس چلی جائے گی تاکہ عام شہریوں سے ٹکراؤ کم سے کم ہو۔

رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج بڑے شہری مراکز سے تو پیچھے ہٹ جائے گی لیکن غزہ کے تقریباً نصف حصے پر قابض رہے گی۔

یرغمالیوں کی رہائی:
فوجی انخلاء کے 72 گھنٹوں کے اندر اندر غزہ میں موجود تمام 48 یرغمالیوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ان 48 میں سے 20 یرغمالیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ لاشوں کی تلاش کے لیے بین الاقوامی مدد حاصل کی جائے گی۔

اسرائیل کی جانب سے 250 فلسطینی قیدیوں، 1700 بالغ اور 22 کم عمر افراد کو رہا کیا جائے گا جنہیں غزہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جبکہ 360 فلسطینی جنگجوؤں کی لاشیں بھی واپس کی جائیں گی۔

جن قیدیوں پر اسرائیلیوں کے قتل کا الزام ہے، انہیں غزہ یا بیرونِ ملک بھیجا جائے گا اور ان پر مغربی کنارے اور اسرائیل میں داخلے پر مستقل پابندی ہوگی۔

انسانی امداد:
معاہدے کے مطابق غزہ میں انسانی امداد میں اضافہ کیا جائے گا اور شمالی و جنوبی غزہ کے درمیان دو مرکزی سڑکوں پر امدادی ٹرکوں کو آزادی سے نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق روزانہ 600 ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے جن میں خوراک، طبی سامان، خیمے، ایندھن، گیس اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہوں گی۔

پانی، نکاسی آب اور بیکریوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے لیے بھی سامان لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔

غزہ سے نقل مکانی اور واپسی:
غزہ کے رہائشیوں کو مصر کے رفح بارڈر کے ذریعے غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی، تاہم یہ اجازت اسرائیلی منظوری سے مشروط ہو گی اور یورپی یونین کے مبصرین کی نگرانی میں دی جائے گی۔

اسی طرح غزہ میں واپسی کے خواہش مند افراد کو بھی اسرائیل کی منظوری کے بعد داخلے کی اجازت دی جائے گی، جس کے لیے مصر اور اسرائیل کے درمیان ایک نیا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈی آئی خان پولیس ٹریننگ اسکول پر حملہ، جوابی کارروائی میں 5 دہشتگرد مارے گئے، 7 اہلکار شہید ملک میں مہنگائی کا رجحان مسلسل جاری، 21 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ڈی آئی خان پولیس ٹریننگ سینٹر کے قریب دھماکہ، فائرنگ کی آوازیں، ہلاکتوں کا خدشہ بھارت نے دہلی کے دورے میں افغان وزیر خارجہ کو ایمبولینسز کا تحفہ دے دیا وینزویلا کی جمہوری رہنما ماریا کورینا نے نوبیل امن انعام ٹرمپ کے نام کردیا بھارت کا ایشیا کپ ٹرافی تنازع آئی سی سی میں اٹھانے کا اعلان، ٹرافی کو ہاتھ لگایا جائے اور نہ ادھر ادھر کی جائے کابل کی خودمختار علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی گئی، افغانستان کا پاکستان پر الزام TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم