Daily Sub News:
2026-07-24@10:07:52 GMT

غزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT

غزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں

غزہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 11 October, 2025 سب نیوز

اسرائیلی فوج کی جانب سے جمعے کی دوپہر 12 بجے سے غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ جمعے کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ غزہ کے اندر ”آپریشنل پوزیشنز کو ایڈجسٹ“ کر رہی ہے۔ یہ جنگ بندی حماس اور اسرائیل کے درمیان ایک امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

مصر میں ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کی کامیابی کی صورت میں غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کا خاتمہ یقینی ہے۔ اس معاہدے کی چند اہم شقیں یہ ہیں:

جنگ بندی اور اسرائیلی فوج کی واپسی:
معاہدے کے مطابق اسرائیلی فوج 24 گھنٹوں کے اندر غزہ کے شہری علاقوں سے پیچھے ہٹ کر طے شدہ لائنز پر واپس چلی جائے گی تاکہ عام شہریوں سے ٹکراؤ کم سے کم ہو۔

رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج بڑے شہری مراکز سے تو پیچھے ہٹ جائے گی لیکن غزہ کے تقریباً نصف حصے پر قابض رہے گی۔

یرغمالیوں کی رہائی:
فوجی انخلاء کے 72 گھنٹوں کے اندر اندر غزہ میں موجود تمام 48 یرغمالیوں کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا جائے گا۔ ان 48 میں سے 20 یرغمالیوں کے زندہ ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ لاشوں کی تلاش کے لیے بین الاقوامی مدد حاصل کی جائے گی۔

اسرائیل کی جانب سے 250 فلسطینی قیدیوں، 1700 بالغ اور 22 کم عمر افراد کو رہا کیا جائے گا جنہیں غزہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جبکہ 360 فلسطینی جنگجوؤں کی لاشیں بھی واپس کی جائیں گی۔

جن قیدیوں پر اسرائیلیوں کے قتل کا الزام ہے، انہیں غزہ یا بیرونِ ملک بھیجا جائے گا اور ان پر مغربی کنارے اور اسرائیل میں داخلے پر مستقل پابندی ہوگی۔

انسانی امداد:
معاہدے کے مطابق غزہ میں انسانی امداد میں اضافہ کیا جائے گا اور شمالی و جنوبی غزہ کے درمیان دو مرکزی سڑکوں پر امدادی ٹرکوں کو آزادی سے نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق روزانہ 600 ٹرک غزہ میں داخل ہوں گے جن میں خوراک، طبی سامان، خیمے، ایندھن، گیس اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہوں گی۔

پانی، نکاسی آب اور بیکریوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے لیے بھی سامان لے جانے کی اجازت دی جائے گی۔

غزہ سے نقل مکانی اور واپسی:
غزہ کے رہائشیوں کو مصر کے رفح بارڈر کے ذریعے غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جائے گی، تاہم یہ اجازت اسرائیلی منظوری سے مشروط ہو گی اور یورپی یونین کے مبصرین کی نگرانی میں دی جائے گی۔

اسی طرح غزہ میں واپسی کے خواہش مند افراد کو بھی اسرائیل کی منظوری کے بعد داخلے کی اجازت دی جائے گی، جس کے لیے مصر اور اسرائیل کے درمیان ایک نیا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈی آئی خان پولیس ٹریننگ اسکول پر حملہ، جوابی کارروائی میں 5 دہشتگرد مارے گئے، 7 اہلکار شہید ملک میں مہنگائی کا رجحان مسلسل جاری، 21 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ڈی آئی خان پولیس ٹریننگ سینٹر کے قریب دھماکہ، فائرنگ کی آوازیں، ہلاکتوں کا خدشہ بھارت نے دہلی کے دورے میں افغان وزیر خارجہ کو ایمبولینسز کا تحفہ دے دیا وینزویلا کی جمہوری رہنما ماریا کورینا نے نوبیل امن انعام ٹرمپ کے نام کردیا بھارت کا ایشیا کپ ٹرافی تنازع آئی سی سی میں اٹھانے کا اعلان، ٹرافی کو ہاتھ لگایا جائے اور نہ ادھر ادھر کی جائے کابل کی خودمختار علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی گئی، افغانستان کا پاکستان پر الزام TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم