ایران نے ٹرمپ کی اسرائیل سے متعلق تجویز کو یکسر مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
تہران:
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل کو تسلیم کرنے تجویز کو خیالی باتیں قرار دے کر یکسر مسترد کردیا۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کو خیالی باتیں قرار دیا جس میں انہیں کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرسکتے ہیں۔
ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کسی صورت ایک ایسی قابض حکومت کو تسلیم نہیں کرے گا جو نسل کشی اور بچوں کے قتل میں ملوث ہو۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل 4 مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے متعلق ابراہم ایکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی نہیں جانتا، ہوسکتا ہے کہ ایران بھی اس میں شامل ہوجائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔