پیوٹن کی نوبل انعام کمیٹی پر تنقید، ٹرمپ کی امن کوششوں کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے نوبل امن انعام کمیٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ باوقار انعام ماضی میں ایسے افراد کو دیا گیا جنہوں نے حقیقی معنوں میں امن کے لیے کچھ نہیں کیا، جس سے اس انعام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایک ویڈیو بیان میں صدر پیوٹن نے کہا کہ اگرچہ یہ فیصلہ ان کا نہیں کہ نوبل انعام کس کو دیا جائے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو انعام دیا گیا جو صرف چند ماہ کے اندر منظر پر آئے اور بغیر کسی بڑی کوشش کے نوبل حاصل کرلیا — یہ انصاف نہیں تھا۔
انہوں نے خاص طور پر موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بین الاقوامی سطح پر امن قائم کرنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ واقعی دہائیوں پرانے بحرانوں کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔
پیوٹن نے ٹرمپ کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے یوکرین تنازع کا ذکر کیا اور کہا،میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ یوکرین کے بحران کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ اور مخلص ہیں۔
روسی صدر نے اعتراف کیا کہ ہر کوشش کامیاب نہیں ہوتی، لیکن یہ کہنا درست ہے کہ امریکی صدر عالمی امن اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے عملی کام کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔