پاک فوج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، کارروائی وقت کی ضرورت تھی، راناثنا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر راناثنااللہ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بہادر افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، مسلح افواج نے جو کارروائی کی، یہ وقت کی ضرورت تھی۔
فیصل آباد میں پریس کانفرنس کے دوران رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ مسلح افواج نے جو کارروائی کی، یہ وقت کی ضرورت ہے جب 30،30 جنازے پڑھے جارہے تھے تو پوری قوم کے دلوں میں یہ سوال اٹھ رہا تھا کہ کب تک جوان سپوتوں کے جنازے پڑھتے رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر دل میں یہ بات تھی اس کا جواب دیا جانا چاہیے اور اتنا ہی موثر دیا جانا چاہیے جتنا جواب کل دیا گیا، اس پر میں وزیراعظم ، صدر پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ جواب تو وقت کی ضرورت تھی لیکن جس موثر انداز سے جواب دیا، حق یہ بنتا تھا اور یہی تقاضا ہے، اب سیاسی قیادت کو اس موقع پر لبیک کہنا چاہیے۔
راناثنااللہ نے کہا کہ اس موقع پر میں ایک مذہبی جماعت جو غزہ مارچ کے نام پر احتجاج کررہی ہے، ان سے کہنا چاہوں گا آپ کے احتجاج میں پرتشدد واقعات ہوئے ہیں، اس حوالے سے مفتی منیب الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن اور علامہ طاہر اشرفی سمیت دیگر رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ یہ موقع احتجاج کا نہیں، ایسے وقت میں جب افواج اپنے شہدا کے خون کا بدلا لے رہی ہے، آپ بے شک ہماری نہیں سنیں لیکن پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں، پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں اور جن شہدا کے خون کا حساب چکایا جارہا ہے، ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے اس احتجاج کو موخر کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے ملک میں سیاست کرنی ہے تو وہ آج اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہو، اگر وہ آج بغیر کسی اگر مگر کے پاک فوج، ان کے شہدا اور پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوتی ہےتو اس میں سے ہی ان کے لیے کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کا کہنا تھا کہ وقت کی ضرورت کے ساتھ
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔