ملک کی پہلی خاتون فیفا ریفری سونیا مصطفیٰ کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
بلوچستان سے تعلق رکھنے والی سونیا مصطفیٰ نے پاکستان کی پہلی فیفا فٹبال ریفری بن کر ملک کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: سونیا مصطفیٰ نے پہلی خاتون فیفافٹبال ریفری بن کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا
انہوں نے فیفا ریفری فزیکل فٹنس ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا اور یہ کارنامہ فٹبال سے وابستہ پاکستانی خواتین کے لیے ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
سونیا مصطفیٰ نے اپنے اسپورٹس کیریئر کا آغاز سنہ 2007 میں کیا اور فٹبال کے میدان میں انہیں 16 سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے سنہ 2017 میں ریفری کے طور پر میدان سنبھالا۔
انہوں نے حال ہی میں اے ایف سی فٹسال ریفری ایم اے کورس بھی کامیابی سے مکمل کیا، جو ان کے فٹبال کیریئر میں ایک اور نمایاں سنگِ میل ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان کی پہلی خاتون ریسنگ ڈرائیور عرشیہ اختر نے عالمی موٹر اسپورٹس میں تاریخ رقم کردی
سونیا مصطفیٰ بلوچستان کی خواتین فٹبال کی ترقی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ وہ بلوچستان ویمنز فٹبال اکیڈمی اینڈ کلب (BWFA & BWFC) کی بانی اور صدر ہیں جو صوبے کی پہلی خاتون فٹبال اکیڈمی ہے جہاں مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو زبان یا نسل کی تفریق کے بغیر تربیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے ملکی سطح پر مرد و خواتین فٹبال اور فٹسال چیمپیئن شپ میں متعدد بار ریفری کے فرائض انجام دیے اور وہ پاکستان و بلوچستان کی پہلی خاتون ریفری ہیں جنہوں نے قومی سطح پر مردوں کے میچ میں آفیشیٹ کیا۔
سونیا مصطفیٰ سنہ 2018 سے بلوچستان ویمنز ٹیم کی مسلسل ٹیم لیڈر بھی ہیں اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک متاثرکن مثال بن چکی ہیں۔
مزید پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ 2026 کس خطرے سے دوچار، ماہرین نے کیا بتایا؟
ان کی یہ کامیابیاں نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے قابلِ فخر ہیں جو خواتین کے کھیلوں میں بڑھتے ہوئے کردار کی روشن علامت ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان کی سونیا مصطفیٰ پاکستان کی پہلی خاتون فیفا ریفری فیفا فیفا ریفری فیفا ریفری سونیا مصطفیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان کی سونیا مصطفی فیفا کی پہلی خاتون سونیا مصطفی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔