گوگل نے   اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے پانچ سالوں میں بھارت میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے لیے ایک ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کے لیے 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ ڈیٹا سینٹر بھارت کے جنوبی صوبے آندھرا پردیش میں قائم کیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق یہ بھارت میں گوگل کی اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہوگی۔
نئی دہلی میں منعقدہ تقریب میں گوگل کلاؤڈ کے سی ای او تھامس کریان نے کہا کہ آندھرا پردیش کا یہ ڈیٹا سینٹر کمپنی کا امریکا کے باہر ”سب سے بڑا اے آئی ہب“ ہوگا۔

گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے اسی سے متعلق ایکس پر کی گئی پوسٹ میں لکھا کہ “یہ سینٹر طاقتور کمپیوٹنگ، نیا بین الاقوامی سمندری کنکشن اور مضبوط توانائی کے نظام کو یکجا کرے گا۔ جس سے ہم اپنی ٹیکنالوجی ہندوستان کی مارکیٹ اور صارفین تک پہنچا کر مصنوعی ذہانت میں جدت کے عمل کو تیز کریں گے۔
یہ منصوبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی مسائل اور درآمدی ٹیکس کی وجہ سے تعلقات کشیدہ ہیں اور امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے خلاف بائیکاٹ کی اپیلیں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔
رائٹرز نے اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں متعدد امریکی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے نجی ملاقاتیں کی ہیں اور انہیں یقین دلایا ہے کہ تجارتی اختلافات کے باوجود وہ بھارت میں کاروباری ماحول کو آسان بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
گوگل نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ منصوبہ بھارت اور امریکا دونوں کے لیے معاشی اور سماجی مواقع پیدا کرے گا، تاہم اس نے درآمدی ٹیکس کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا ہے جو کہ امریکا کے کسی بھی تجارتی شراکت دار کے لیے سب سے زیادہ شرحوں میں سے ایک ہے۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈیٹا سینٹر بھارت میں کے لیے

پڑھیں:

نفیس سرافت پر 1,613 کروڑ ٹکے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کا کیس

بنگلہ دیش کی کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (CID) نے پدما بینک کے سابق چیئرمین نفیس سرافت اور 3 ساتھیوں کے خلاف 1,613 کروڑ ٹکے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزام میں کیس دائر کیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے

تحقیقات کے مطابق سرافت اور ان کے ساتھیوں نے فنڈز کا غیر قانونی استعمال کرکے بینک اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی، جعلی دستاویزات کے ذریعے اکاؤنٹس کھولے اور آف شور کمپنیاں قائم کیں۔ کیس گُلشن پولیس اسٹیشن میں 27 نومبر 2025 کو دائر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ

سی آئی ڈی نے کہا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مالی مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

CID بنگلہ دیش پدما بینک نفیس سرافت

متعلقہ مضامین

  • سعودی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف سے امید: ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم
  • جرمن کمپنی کی حب میں 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری، مفاہمتی یاداشت پر دستخط
  • ٹرمپ کا تھرڈ ورلڈ کے تمام ممالک سے لوگوں کی امریکا ہجرت روکنے کا اعلان
  • نفیس سرافت پر 1,613 کروڑ ٹکے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کا کیس
  • پاکستان پیداواری ملک نہیں صارف منڈی بن رہا ہے!
  • چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ
  • وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت‘ سہولیات دینے کا اعلان
  • یو اے ای کے سفیر کا پاکستانیوں کیلیے ویزا پراسیسنگ میں بڑی آسانیوں کا اعلان
  • وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت، سہولیات دینے کا اعلان
  • امریکا کا القاعدہ کے 2 سینئر رہنماؤں اسامہ محمود اور عاطف یحییٰ غوری کی معلومات دینے پر بھاری انعام کا اعلان