پاکستان کی امریکی کمپنیوں کو تیل، معدنیات، زراعت اور آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی کمپنیوں کو تیل، معدنیات، زراعت اور آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت دیدی۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی واشنگٹن میں امریکی معاون وزیرخزانہ رابرٹ کیپ روتھ سمیت دیگر حکام سے ملاقات ہوئی۔وزیر خزانہ نے امریکی حکام کو پاکستان کی مضبوط معاشی بنیادوں، ورچوئل اثاثوں سے متعلق قانون سازی سے آگاہ کیا، اور امریکی کمپنیوں کو تیل، معدنیات، زراعت اور آئی ٹی شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف معاہدے پر کامیاب مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیر خزانہ نے دولت مشترکہ وزرائے خزانہ اجلاس سے خطاب میں موسمیاتی فنانسنگ کی اہمیت اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ فعال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے اسلامی ترقیاتی بینک کے صدر سلیمان الجاسر سے بھی ملاقات کی جہاں انہوں نے موٹروے Six کے دو حصوں کی فنانسنگ کی منظوری پراظہار تشکر کیا۔ پولیو کے خاتمے اور تیل فراہمی کے منصوبوں میں مزید تعاون پر بھی اتفاق کیا گیا۔وفاقی وزیرخزانہ نے آئی ایف سی کے ریجنل نائب صدر اور سٹی بینک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ وزیرخزانہ نے یوایس پاکستان بزنس کونسل کی تقریب میں بھی شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیرخزانہ محمد اورنگزیب
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔