ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن پر فرد جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن پر فردجرم عائد کر دی گئی۔
امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ جان بولٹن پر خفیہ دفاعی معلومات منتقل کرنے کا الزام ہے، بولٹن نے حساس دستاویزات ذاتی ای میل اور چیٹ ایپس پر بھیجیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بولٹن نے اپنی روزانہ کی نوٹ بندی کی معلومات اپنے دو رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کی، جن میں سرکاری اجلاسوں سے حاصل کردہ معلومات، غیر ملکی رہنماؤں سے بات چیت اور انٹیلی جنس بریفنگز شامل تھیں۔ ان معلومات کو بولٹن نے اپنی کتاب کے لیے استعمال کرنے کے ارادے سے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کیا، اور انہیں ”ایڈیٹرز“ قرار دیا۔
فرد جرم میں یہ بھی کہا گیا کہ بولٹن نے ایک پیغام میں لکھا: ”پبلشر کے ساتھ بات کر رہا ہوں کیونکہ انہیں پہلی بار انکار کا حق حاصل ہے!“ یہ پیغامات بولٹن نے اپنے رشتہ داروں سے کیے تھے، جن میں ان کی بیوی اور بیٹی شامل ہیں، جن کی شناخت فرد جرم میں نہیں کی گئی۔
بولٹن نے ایک بیان میں کہا کہ ”میں اپنے قانونی رویے کا دفاع کرنے اور طاقت کے غلط استعمال کو بے نقاب کرنے کے لیے تیار ہوں۔“ ان کے وکیل ابی لوئیل نے کہا کہ بولٹن نے کسی بھی معلومات کو غیر قانونی طور پر شیئر یا محفوظ نہیں کیا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ، جو 2021 میں اپنی صدارت کی مدت ختم ہونے کے بعد قانونی مسائل کا سامنا کر چکے ہیں، نے اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کرنے کے لیے وزارتِ انصاف پر دباؤ ڈالا ہے۔ اس کے نتیجے میں، سابق FBI ڈائریکٹر جیمز کمی اور نیو یارک کی اٹارنی جنرل لٹیڈیا جیمز کے خلاف مقدمات چلائے گئے ہیں۔
بولٹن کے خلاف تحقیقات 2022 میں شروع کی گئی تھیں، جو ٹرمپ انتظامیہ سے پہلے کی ہیں۔ وزارتِ انصاف کے اندر اس کیس کو کمی اور جیمز کے خلاف مقدمات سے زیادہ مضبوط سمجھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔