UrduPoint:
2026-06-03@00:13:11 GMT

ٹرمپ اور پوٹن میں جلد ہی بالمصافحہ بات چیت متوقع

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

ٹرمپ اور پوٹن میں جلد ہی بالمصافحہ بات چیت متوقع

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 اکتوبر 2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین جنگ پر بات کرنے کے لیے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے ہنگری کے شہر بوڈاپیسٹ میں ملاقات کریں گے۔ البتہ انہوں نے اس ملاقات کی تاریخ کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔

پوٹن سے فون پر بات چیت کے بعد انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: "میں نے ابھی ابھی روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ٹیلی فون پر اپنی بات چیت ختم کی ہے، اور یہ بہت نتیجہ خیز رہی ہے۔

"

ٹرمپ نے مزید کہا، "صدر پوٹن اور میں اس کے بعد ایک متفقہ مقام، بوڈاپیسٹ، ہنگری میں ملاقات کریں گے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ کیا ہم روس اور یوکرین کے درمیان اس "بدنام" جنگ کو ختم کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

"

امریکی صدر کی پوٹن کے ساتھ یہ فون کال جمعے کے روز یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے واشنگٹن کے طے شدہ دورے سے عین قبل ہوئی ہے۔

امریکہ اور روس کے اعلیٰ سطحی مشیروں کی اگلے ہفتے ملاقات

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور روس کے اعلیٰ سطحی مشیر اگلے ہفتے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان ابتدائی ملاقاتوں کی قیادت امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی ان ملاقاتوں کے مقام کا تعین ہونا باقی ہے۔

ٹرمپ نے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی ثالثی کے ذریعے فائر بندی کے فریم ورک کے حوالے سے لکھا، "حقیقت میں مجھے یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کامیابی سے روس/یوکرین جنگ ​​کے خاتمے کے لیے بھی ہمارے مذاکرات میں مدد ملے گی۔

" پوٹن سے ہونے والی بات چیت پر زیلنسکی سے تبادلہ خیال

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ پوٹن کے ساتھ فون پر ہونے والی اپنی بات چیت پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بات کریں گے۔ واضح رہے کہ یوکرین کے صدر واشنگٹن پہنچ چکے ہیں اور جمعہ کو اوول آفس میں ان کی ملاقات ٹرمپ سے ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا، "صدر زیلنسکی اور میں کل اوول آفس میں ملاقات کریں گے، جہاں ہم صدر پوٹن کے ساتھ اپنی گفتگو اور بہت کچھ پر تبادلہ خیال کرنے والے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ ٹیلی فون پر آج ہونے والی بات چیت میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔"

توقع ہے کہ زیلنسکی اپنے دورے کے دوران طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی ساختہ ٹوم ہاک کروز میزائلوں کی خریداری کے لیے منظوری بھی حاصل کریں گے۔

تاہم روس نے یوکرین کو ٹوم ہاکس کی فراہمی کے خلاف امریکی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے۔

ٹوم ہاک کی فراہمی امن عمل کے لیے خطرہ

کریملن کا کہنا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین کی ٹوم ہاک کروز میزائلوں کی درخواست کو تسلیم کرنے کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا کہ پوٹن نے امریکی صدر کو بتایا ہے کہ یوکرین کو ٹوم ہاک میزائل دینے سے امریکہ اور روس کے تعلقات اور امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔

اوشاکوف نے یہ بھی کہا کہ یہ فون کال روس کی پہل پر ہوئی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ "یہ ایک انتہائی اہم گفتگو تھی اور ساتھ ہی، یہ انتہائی صاف گوئی اور اعتماد پر مبنی تھی۔

"

ٹرمپ اور پوٹن کے درمیان سربراہی ملاقات کے بارے میں کریملن کے معاون نے کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سرگئی لاوروف پہلے فون پر بات کریں گے اور اس طرح سربراہی اجلاس کے لیے راہ ہموار کرنے کا کام "فوری طور پر" شروع ہو جائے گا۔

ہنگری میں سربراہی اجلاس کی تیاریاں شروع

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کا کہنا ہے کہ جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کرنے والے ہیں، تو انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی۔

اوربان نے ایکس پر لکھا: امریکہ اور روس کے درمیان امن سربراہی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں۔ ہنگری امن کا جزیرہ ہے۔" البتہ سربراہی اجلاس کی تاریخ کا ابھی اعلان ہونا باقی ہے۔

اوربان طویل عرصے سے یورپ میں پوٹن کے سب سے بڑے اتحادی رہے ہیں۔

اگلے دو ہفتوں میں ملاقات متوقع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بوڈاپیسٹ میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ملاقات کے لیے ایک مشکل ٹائم فریم پیش کیا ہے۔

ٹرمپ نے اوول آفس میں نامہ نگاروں کو بتایا، "میں شاید اگلے دو ہفتوں میں ان سے ملاقات کروں گا۔"

ادارت: کشور مصطفیٰ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدر ولادیمیر پوٹن امریکہ اور روس کے ملاقات کریں گے سربراہی اجلاس پوٹن کے ساتھ میں ملاقات یوکرین کے نے کہا کہ انہوں نے بات چیت پوٹن سے پر بات کے لیے فون پر کے صدر

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان