پاک افغان کشیدگی کم کرنےکیلئے تمام وسائل استعمال کریں گے: ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
پاک افغان کشیدگی کم کرنےکیلئے تمام وسائل استعمال کریں گے: ایرانی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 17 October, 2025 سب نیوز
تہران: (آئی پی ایس)ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے فروغ اورتعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تمام وسائل استعمال کرے گا۔
مسعود پزشکیان نے حالیہ پاک افغان جھڑپوں پر ردعمل دیتے ہوئےکہا کہ مسلم ممالک تنازعات اور تقسیم کو مسترد کرتے ہیں، اس طرح کی بےامنی مسلم دشمنوں اور بین الاقوامی سازشوں کا نتیجہ ہے، خطےکو پہلے سے کہیں زیادہ امن، ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان نئے سرے سےکشیدگی نے ایران سمیت خطے میں موجود دیگر ممالک میں تشویش پیدا کردی ہے، مشترکہ جڑوں اور ثقافت والی مسلم قومیں عقیدے اور ثقافت کا اٹوٹ رشتہ رکھتی ہیں۔
ایرانی صدر نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کی حکومتیں اور عوام اپنے اختلافات کو حکمت کے ذریعے حل کریں گے، مسلم قوموں کو امن، انصاف اور ترقی کو آگے بڑھانےکے لیے مل کرکام کرنا چاہئے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمیرعلی میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے کی کوشش ناکام، 4خوارجی جہنم واصل میرعلی میں سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے کی کوشش ناکام، 4خوارجی جہنم واصل اسرائیلی پابندیاں تباہ سرنگوں میں دفن یرغمالیوں کی لاشیں نکالنے میں رکاوٹ ہیں: حماس اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈریپ کو میڈیکل ڈیوائسز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے خلاف کارروائی سے روکنے کا حکم پنجاب میں پاور شیئرنگ، بلدیاتی قانون سازی پر ڈیڈلاک: پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی ملاقات بے نتیجہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کیلئے کس کس نے کوالیفائی کیا؟ 20 ٹیموں کی لائن اپ مکمل سپریم کورٹ بار انتخابات: عاصمہ جہانگیر گروپ نے میدان مار لیا،ہارون الرشید صدر منتخبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایرانی صدر
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔