Juraat:
2026-06-03@04:59:52 GMT

نارتھ ناظم آباد میں خلاف ضابطہ تعمیرات،حکام خاموش

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

نارتھ ناظم آباد میں خلاف ضابطہ تعمیرات،حکام خاموش

شہریوں کی صحت و حفاظت خطرے میں،ڈپٹی کشن چند کی بے حسی ، حالات دسنگین
این پلاٹ نمبر اے 141اور بی 67پر بغیر نقشوں کے تعمیراتی لاقانونیت جاری

کراچی وسطی کے معروف علاقے نارتھ ناظم آباد کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر جاری خلاف ضابطہ تعمیرات نے شہریوں کی زندگیوں کو مشکل اور خطرے سے دوچار کر دیا ہے ، جبکہ متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کشن چند کی بے حسی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔محلے کے بزرگ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں نئی تعمیر ہونے والی رہائشی عمارتیں اور تجارتی پلازے بلڈنگ قوانین کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان غیرقانونی تعمیرات میں پارکنگ کے لیے مطلوبہ جگہ چھوڑنے ، کھلی فضا (اوپن اسپیس) کے اصولوں کو نظرانداز کرنے اور مخصوص اونچائی سے تجاوز جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔راتوں رات کھڑی ہوتی ہیں منہ دیکھتی عمارتیں”جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی رہائشی، عبداللہ احمد نے بتایا، ’’یہ کوئی راتوں رات کا کام نہیں۔ ہفتوں اور مہینوں چلتا ہے ۔ مٹیریل سڑک پر پڑا رہتا ہے ، ٹرک آتے ہیں، مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ عمارتیں اچانک ہی سے منہ دیکھتی ہوئی کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ہماری گلیاں اتنی تنگ ہو چکی ہیں کہ کسی ایمرجنسی میں خدا ہی حافظ ہے ‘‘۔شہری شکایات درج کروانے سے بھی قاصر ہیں ۔کئی شہریوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور متعلقہ اداروں میں بارہا شکایات درج کرانے کی کوشش کی، مگر یا تو ان کی شکایات پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی، یا پھر انہیں بتایا گیا کہ تعمیرات کے ’’اجازت نامے‘‘ موجود ہیں، جو شہریوں کے نزدیک جعلی یا سفارش سے حاصل کردہ ہیں۔نکاسی آب کا نظام تباہ، بیماریوں کا خدشہ بڑھنے لگا ہے ۔ناقص تعمیرات نے نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ۔ نئی عمارتوں کی بنیادوں نے پرانے سیوریج لائنوں کو نقصان پہنچایا ہے ، جس کے نتیجے میں گلیوں میں گٹر کے پانی کے کھڑے ہونے اور رسنے کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔محکمے کا مؤقف ہے کہ ’’ہماری کارروائی جاری ہے‘‘ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ایک ترجمان نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ نارتھ ناظم آباد سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں خلاف ضابطہ تعمیرات کے خلاف کارروائی کر رہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا، "ہم نے کئی مقامات پر نوٹس جاری کیے ہیں اور کچھ جگہوں پر ڈیمولیشن کا عمل بھی شروع کیا ہے ۔ تاہم، وسائل کی کمی اور عدالتی امور کے باعث بعض اوقات کارروائی میں تاخیر ہو جاتی ہے ۔زمینی حقائق کے مطابق نارتھ ناظم آباد کے بلاک این میں پلاٹ نمبر اے 148 اور بی 67 پر بغیر نقشے اور منظوری کے تعمیرات جاری ہیں ،جاری خلاف ضابطہ تعمیرات پر علاقہ مکین مطالبہ کر رہے ہیں کہ صوبائی اور بلدیاتی حکام اس مسئلے کی طرف فوری توجہ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محض کاغذی نوٹس جاری کرنے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ مخصوص ٹیمز تشکیل دے کر عملی طور پر غیرقانونی تعمیرات کو گرانے کا عمل تیز کرنا ہوگا، تاکہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ خلاف ضابطہ تعمیرات میں ملوث کنسٹرکشن کمپنیوں اور انجینئرز کے خلاف بھی سخت قانونی اقدامات اٹھائے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: خلاف ضابطہ تعمیرات نارتھ ناظم آباد

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری