کابل کےحکمران بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اب افغانستان بھارت کی پراکسی بن گیا ہے، دہشتگردی کی یہ جنگ بھارت افغانستان اور ٹی ٹی پی نےمل کرپاکستان پرمسلط کی ہوئی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ کابل کےحکمران بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، کل تک یہ کابل کے حکمران ہماری پناہ میں تھے، ہماری زمین پر چھپتے پھرتے تھے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان اب کابل کے ساتھ تعلقات کا ماضی کی طرح متحمل نہیں ہو سکتا، تمام افغانوں کو اپنے وطن جانا ہو گا، اب کابل میں ان کی اپنی حکومت ہے، اسلامی انقلاب آئے 5 سال ہو گئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان کو پاکستان کے ساتھ ہمسایوں کی طرح رہنا ہوگا، ہماری سرزمین اور وسائل 25 کروڑپاکستانیوں کی ملکیت ہیں، پانچ دہائیوں کی زبردستی کی مہمان نوازی کے خاتمے کا وقت ہے، خوددار قومیں بیگانی سرزمین اور وسائل پر نہیں پلتیں۔
افغانستان سے مذاکرات کیلئے ابھی تک کوئی وفد دوحہ نہیں گیا، سیکیورٹی ذرائع
وزیر دفاع نے کہا کہ اب احتجاجی مراسلے اور امن کی اپیلیں نہیں ہوں گی،کابل وفد نہیں جائیں گے، دہشتگردی کا منبع جہاں بھی ہوگا اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔خواجہ آصف نے بتایا کہ طالبان کے 2021 میں اقتدار میں آنےکے بعد سے پاکستان میں امن اور افغانستان سےدراندازی روکنےکے لیے حکومتی کوششوں کے حوالے سے کہا کہ وزیرخارجہ نے کابل کے 4 دورے کیے، وزیر دفاع اور آئی ایس آئی کے 2 دورے ہوئے، نمائندہ خصوصی اور سکریٹری نے کابل کے پانچ پانچ دورے کیے، نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ایک مرتبہ کابل کے دورے پر گئے اور جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے 8 اجلاس ہوئے۔
عمران خان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو کابینہ اپنی مرضی سے بنانے کا حکم دے دیا
وزیر دفاع نے کہا کہ 225 بارڈر فلیگ میٹنگز اور 836 احتجاجی مراسلے اور 13 ڈیمارش کیے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2021 سے لےکر اب تک پاکستان میں دہشت گردی کے 10 ہزار 347 واقعات میں 3844 افراد شہید ہوئے، شہدا میں سول، فوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ 5 سال میں ہماری کوششوں اور قربانیوں کے باوجود کابل سے مثبت ردعمل نہیں آیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف وزیر دفاع نے کہا کہ کابل کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی