وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف—فائل فوٹو

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ کابل کے حکمراں بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں، کل تک یہ ہماری پناہ میں تھے، ہماری زمین پر چھپتے پھرتے تھے۔ 

جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اب افغانستان بھارت کی پراکسی بن گیا ہے، دہشت گردی کی یہ جنگ بھارت افغانستان اور ٹی ٹی پی نے مل کر پاکستان پر مسلط کی ہوئی ہے۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ طالبان کے 2021ء میں اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں امن اور افغانستان سے دراندازی روکنے کے لیے حکومت نے کوششیں کیں، وزیرِخارجہ نے کابل کے 4 دورے کیے، وزیرِ دفاع اور آئی ایس آئی کے 2 دورے ہوئے۔

وزیرِ دفاع نے بتایا ہے کہ نمائندہ خصوصی اور سیکریٹری نے کابل کے 5، 5 دورے کیے، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ایک مرتبہ کابل کے دورے پر گئے، جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے 8 اجلاس ہوئے، 225 بارڈر فلیگ میٹنگز اور 836 احتجاجی مراسلے اور 13 ڈیمارش کیے گئے۔

میں نہیں سمجھتا یہ سیز فائر زیادہ دیر نکال پائے، خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں 48 گھنٹے کا سیز فائر ہوا ہے، افغانستان ایک ٹینک دکھا رہا ہے اور دعٰوی کر رہا ہے کہ یہ پاکستان کا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2021ء سے لے کر اب تک پاکستان میں دہشت گردی کے 10 ہزار 347 واقعات میں 3 ہزار 844 افراد شہید ہوئے، شہداء میں سول، فوجی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں، 5 سال میں ہماری کوششوں اور قربانیوں کے باوجود کابل سے مثبت ردِعمل نہیں آیا۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اب کابل کے ساتھ تعلقات کا ماضی کی طرح متحمل نہیں ہو سکتا، تمام افغانیوں کو اپنے وطن جانا ہو گا، اب کابل میں ان کی اپنی حکومت/خلافت ہے، اسلامی انقلاب آئے 5 سال ہو گئے ہیں، افغانستان کو پاکستان کے ساتھ ہمسایوں کی طرح رہنا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ ہماری سر زمین اور وسائل 25 کروڑ پاکستانیوں کی ملکیت ہیں، 5 دہائیوں کی زبردستی کی مہمان نوازی کے خاتمے کا وقت ہے، خوددار قومیں بیگانی سر زمین اور وسائل پر نہیں پلتیں، اب احتجاجی مراسلے امن کی اپیلیں نہیں ہوں گی، کابل وفد نہیں جائیں گے، دہشت گردی کا منبع جہاں بھی ہو گا اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: دفاع خواجہ خواجہ ا صف کابل کے

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا شہزادہ رحیم کے دورۂ گلگت بلتستان کے الیکشن پر اثرات
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی