بارود سے بھرا رکشہ چیک پوسٹ سے ٹکرانے کی کوشش ناکام، 3دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں تھانہ ہوید کی حدود میں فتن الخوارج کے دہشتگردوں کی جانب سے بارود سے بھرا رکشہ چیک پوسٹ سے ٹکرانے کی کوشش ناکام بنادی گئی، فائرنگ سے بارود سے بھرا رکشہ پھٹ گیا،تین دہشت گرد ہلاک ہوگئے ۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات فتن الخوارج کے 3 دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھرے رکشہ کے ذریعے بنوں میں تھانہ ہوید کی حدود چوکی مزانگہ پر حملے کی بزدلانہ کوشش کی۔چوکی میں موجود پولیس کے بہادر جوانوں نے بروقت اور مستعدانہ کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنائے۔چوکی میں موجود پولیس کے بہادر جوانوں نے مشکوک نقل و حرکت دیکھ کر رکشہ کو روکنے کی کوشش کی اور نہ رکنے پر پولیس جوانوں نے فائرنگ کی جس سے رکشہ وہیں زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں تینوں دہشتگرد موقع پر ہی جہنم واصل ہوگئے اور تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے، تاہم دھماکے کی شدت سے قریب واقع گھروں کو معمولی نقصان پہنچا۔ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان اور ڈی پی او بنوں سلیم عباس کلاچی نے پولیس اہلکاروں کی بروقت اور دلیرانہ کارروائی کو سراہا ۔ان کا کہنا تھا کہ چوکی مزانگہ کے جوانوں نے فرض شناسی، بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی بہترین مثال قائم کی، یہ سپاہی بنوں پولیس کا فخر ہیں جو ہر قیمت پر عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ فتن الخوارج جیسے عناصر قوم اور عوام کے دشمن ہیں، ریاست دشمنوں کی ہر بزدلانہ کوشش ناکام بناتے رہیں گے جب کہ ہمارے جوانوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ بنوں پولیس ہر وقت اپنے علاقے اور عوام کے دفاع کے لیے تیار ہے۔ڈی آئی جی بنوں اور ڈی پی او نے چوکی میں موجود بہادر جوانوں کو نقد انعامات اور تعریفی اسناد دینے کا اعلان بھی کیا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے اردگرد کے حالات پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کی فوری اطلاع قریبی تھانے یا پولیس کنٹرول روم کو دیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک، ہمارا گھر ہے، پولیس اور عوام مل کر ہی دہشت گردی جیسے فتنوں کا مکمل خاتمہ کرسکتے ہیں جب کہ بنوں پولیس عوام کے تعان سے امن و امان کے قیام کیلئے دن رات کوشاں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔