ٹرمپ کو لگا اسرائیلی قابو سے باہر ہو رہا ہے‘ امریکی ایلچی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے قطر پرحملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لگا اسرائیلی قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران کہا مجھے اسرائیل کی جانب سے حماس پر قطر میں حملے کے منصوبے کا کوئی علم نہیں تھا، اگلی صبح انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کال موصول ہوئی جب حملے کی خبر ملی۔اسٹیو وٹکوف نے بتایا
کہ میں اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر خود کو دھوکا کھایا ہوا محسوس کر رہے تھے، حملے کے بعد قطر کا اعتماد کھو دیا گیا، حماس زیرِ زمین چلی گئی اور رابطہ کرنا انتہائی مشکل ہوگیا۔ امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے قطر پرحملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لگا اسرائیلی قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی ایلچی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔