پاکستان بزنس کمیونٹی جدہ کے جنرل سیکریٹری انجینئر سجاد خان کی جانب سے ملک منظور کے یورپ کے کامیاب دورے کی خوشی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان بزنس کمیونٹی جدہ کے جنرل سیکریٹری انجنیئر سجاد خان کی جانب سے ملک منظور کے یورپ کے کامیاب دورے کی خوشی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں جدہ کی کاروباری اور صحافتی برادری نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکائے تقریب نے ملک منظور کو کامیاب دورے پر مبارکباد پیش کی اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔تقریب میں شریک اہم کاروباری شخصیات میں عبد الخالق لک، عقیل آرائیں، چوہدری شہباز، جمشید جِمی، ولید بہادر، عبدالشکور، چوہدری شاہد حسین، امجد گجر، افضل جٹ، زوہیب علی اور دیگر معروف شخصیات شامل تھیں جو جدہ کی بزنس کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں اور پاکستان و سعودی عرب کے تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔اس موقع پر صحافی برادری کی نمائندگی یونائیٹڈ جرنلسٹ فورم کے جہانگیر خان، پاک اوورسیز میڈیا فورم کے چیئرمین چوہدری ریاض گھمن، صدر شعیب الطاف، ممبر شباب بھٹہ اور فواد احمد سواتی نے کی۔ مقررین نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی میڈیا نہ صرف کمیونٹی کے مسائل اجاگر کر رہا ہے بلکہ پاکستان کا مثبت امیج پیش کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔تقریب میں مقررین نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ اقتصادی معاہدے کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت توانائی، تعمیرات، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، جو دونوں ممالک کے لیے معاشی ترقی کی نئی راہیں کھولیں گے۔آخر میں انجنیئر سجاد خان، ملک منظور اور دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستان میں بزنس انوائرمنٹ بہتر ہو رہا ہے، سرمایہ کاروں کے لیے حکومتی پالیسیز میں مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ وطنِ عزیز میں بزنس منصوبوں میں بھرپور سرمایہ کاری کریں تاکہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملک منظور
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔