پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہندو برادری آج دیوالی کا تہوار منا رہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
لاہور ( نیوزڈیسک) پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والی ہندو برادری آج دیوالی کا تہوار مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منا رہی ہے۔
اس موقع پر مندروں میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، اس دن کو منانے کے لیے ہندو برادری بھگوان رام کی واپسی کی یاد میں اپنی مذہبی رسم کے لیے مٹی کے چراغ بھی جلاتے ہیں۔
یہ تہوار شری رام چندر جی کی قربانیوں کو یاد کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنہوں نے تقریباً چودہ سال جنگلوں میں گزارے اور ہندو مذہب کی تبلیغ کی۔
دوسری جانب وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بھی دیوالی کے موقع پر پاکستان اور دنیا بھر میں ہندو برادری کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی ہے۔
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا ہے کہ دیوالی روشنیوں کا تہوار، اندھیرے پر روشنی کی فتح اور مایوسی پر امید کی علامت ہے۔
انہوں نے پاکستان میں ہندو برادری کی گرانقدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جن کا ملک کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں کردار قوم کو مضبوط بنا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔