بین الاقوامی خواتین بائیکرز کا قافلہ لوئر دیر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک :مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین بائیکرز کا گروپ لوئر دیر کی تحصیل تیمرگرہ پہنچ گیا۔
کینیڈا، نیوزی لینڈ، فرانس اور اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی خواتین بائیکرز دو ہفتے قبل اسلام آباد سے روانہ ہوئی تھیں۔
وہ بشام، قراقرم، چائنا بارڈر، گلگت،شندور، چترال اور کالاش سے ہوتے ہوئے تیمرگرہ پہنچیں۔
میڈیا سےگفتگو میں غیرملکی بائیکرز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سفر کے دوران پاکستان کے خوبصورت علاقوں سے لطف اندوز ہوئے اور یہاں کے کلچر اور روایات سے واقفیت ہوئی۔
خلاء میں بھیجا جانے والا سیٹلائیٹ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے تحقیق میں مدگار ثابت ہوگا؛ وزیراعظم
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگ مہمان نواز اور پراُمن ہیں، دنیا میں یہ تاثر غلط ہےکہ پاکستان میں غیرملکی محفوظ نہیں، پاکستان پُرامن ملک ہے جہاں بلاخوف و خطر غیرملکی آسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔