علیمہ خان ،عمر ایوب،زرتاج گل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد/ راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) پی ٹی آئی کے 26 نومبر احتجاج کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے تیسری مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے، تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے میں وکیل صفائی کی یقین دہانی کے باوجود علیمہ خان آج بھی عدالت نہیں آئیں، عدالت نے ضامن کے وارنٹ بھی جاری کردییانسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے تھانہ صادق آباد میں درج 26 نومبر کے احتجاج کے مقدمے میں تیسری بار بانی پی ٹی آئی عمران خان کی علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔ عدالت نے ایس پی راول ڈویژن کو ہدایت کی کہ ملزمہ کو گرفتار کرکے بدھ 22 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا جائے، عدالت نے علیمہ خانم کے ضامن کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے مچلکے ضبط کرنے کا شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا۔ عدالت نے ضامن کی جانب سے داخل کروائے گئے پراپرٹی دستاویزات کو تصدیق کے لیے ڈی سی راولپنڈی کو بھجوا دیا۔ علاوہ ازیں انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی کے سنگجانی جلسے پر درج مقدمات میں عمر ایوب اور زرتاج گل سمیت دیگر رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے عمر ایوب، زین قریشی زرتاج گل اور علی بخاری کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔ شیر افضل مروت کی طرف سے کیس ٹرانسفر کی درخواست دائر کی گئی جس پر عدالت نے شیر افضل مروت کی درخواست پر نوٹسز جاری کر کے دلائل طلب کر لیے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پی ٹی ا ئی علیمہ خان عدالت نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔