پاکستان امن کی سرزمین ‘ نفرت اور دہشت گردی کیگنجائس نہیں : شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی +نوائے وقت رپورٹ+ نیٹ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی صنعتی ترقی گھریلو، چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی ترقی سے مشروط ہے۔ ایس ایم ایز میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کے لیے اقدامات خوش آئند ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ایکس اکاؤنٹ پر کی گئی پوسٹ کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کی تنظیم نو اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایس ایم ایز) کی ترقی پر جائزہ اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو سمیڈا کی تنظیمِ نو اور ایس ایم ایز کی ترقی کیلئے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایس ایم ایز کی ترقی کیلئے دفاتر کھول دئیے گئے‘ جس کی عوام و چیمبرز کی طرف سے پذیرائی کی جا رہی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ سمیڈا کا نجی شعبے کے ماہرین پر مشتمل بورڈ تشکیل دیا جا چکا جبکہ آئندہ چند روز میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی تعیناتی مکمل کر لی جائے گی۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ سٹرینگ کمیٹی کے احکامات کی بدولت ایس ایم ایز کی استعداد، قرضوں کی فراہمی، سرمائے اور اشتراک میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے پیمانے (ایس ایم ایز) کی صنعتوں میں خواتین کی شمولیت کو بڑھانے کیلئے اقدامات خوش آئند ہیں، اس اقدام کی آگاہی بڑھائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو صنعتوں کی رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ انہیں کاروباری وسعت کیلئے قرض کے حصول میں آسانی ہو اور سمیڈا کے روڈ میپ کے اطلاق کی واضح مدت طے ہو اور اطلاق جلد سے جلد یقینی بنایا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بڑی صنعتوں کا خام مال ایس ایم ایز فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کیلئے دیہی علاقوں میں ایس ایم ایز کے حوالے سے تربیت یقینی بنائی جائے۔ وزیر اعظم نے سمیڈا کی تنظیم نو اور ایس ایم ایز کی ترقی کیلئے وزارت صنعت و پیداوار کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ خواتین کی ایس ایم ایز شعبے میں حوصلہ افزائی کیلئے ‘ویمن پرونیورشپ پلیٹ فارم’ تشکیل دیا جا رہا ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی ہو گا۔ یہ پلیٹ فارم خواتین کو کاروباری شعبے کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ رجسٹریشنز، ٹیکس معاملات اور ہنر کی آگاہی بھی دے گا۔ اجلاس کو ایس ایم ایز کو رسمی معیشت کا حصہ بنانے کیلئے اقدامات کا روڈ میپ بھی پیش کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ہفتے سعودی عرب کا تین روزہ دورہ کریں گے۔ اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت بھی ان کے ہمراہ ہوگی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات بھی کریں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب میں فیوچر انونسٹمنٹ اینیشایٹو سے خطاب بھی کریں گے، ان کے ہمراہ وفاقی وزراء بھی سعودی عرب جائیں گے۔ دورے کے دوران وزیراعظم سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیں گے۔
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں اقلیتوں کے قابل فخر کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن، ہم آہنگی اور برداشت کی سرزمین ہے۔ یہاں نفرت، فتنہ فساد، انتشار اور دہشت گردی کیلئے کوئی گنجائش نہیں، اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور حکومت نے ان کیلئے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں وزیراعظم ہاؤس میں دیوالی کے تہوار پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء ‘ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور مختلف اقلیتی برادریوں کے سرکردہ زعماء موجود تھے۔ وزیر اعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہندو برادری کو دیوالی کی مبارکباد دی اور کیک کاٹا گیا۔ یہاں اقلیتوں اور اکثریت کے مذہبی، سیاسی نمائندوں کی موجودگی تصور پاکستان کی عملی تصویر ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست کی تقریر میں اعلان کیا تھا کہ تمام مذاہب کے ماننے والے پاکستان میں اپنی عبادت گاہوں میں کسی خوف اور ڈر کے بغیر اپنی عبادت اور رسومات ادا کرسکتے ہیں۔ انہیں مذہبی آزادی حاصل ہے، قیام پاکستان سے دفاع پاکستان تک ہر محاذ پر اقلیتی برادریوں نے جس طرح قابل فخر کردار ادا کیا ہے اس پر ہمیں ناز ہے۔ آج کا دن اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ مسلم اور غیر مسلم پاکستانی مل کر وطن عزیز کیخلاف ہونے والی کسی بھی شر انگیزی اور حملے کا مقابلہ کرتے ہیں اور اقلیتوں کیساتھ کسی بھی نا انصافی کے قابل افسوس اور قابل مذمت واقعات کو پاکستان کی اکثریت نے کبھی بھی پسند نہیں کیا اور ہمیشہ اس کی مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نے تعلیم، صحت سمیت تمام شعبوں میں اقلیتوں کی گراں قدر خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں میں ان کی نمائندگی موجود ہے ۔ قبل ازیں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ آج دیوالی کا پروگرام پرامن پاکستان کا پیغام دیتا ہے، پاکستان ایک امن پسند خطہ ہے۔ وزیر مملکت کھیئل داس کوہستانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمد نواز شریف نے 2015ء میں بطور وزیر اعظم دیوالی کا تہوار سرکاری سطح پر منایا، رواں سال سرکاری سطح پر وزیراعظم ہاؤس میں دیوالی کے پروگرام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے ہمارے مدرسوں پر حملے کئے لیکن پاک فوج نے جوابی کارروائی میں کسی مذہبی مقام یا سول آبادی پر حملہ نہیں کیا۔ بھارت میں تمام اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نے مودی کا تکبر خاک میں ملا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کی بتایا گیا کہ اجلاس کو کی ترقی شریف نے
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔