الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا شیڈول واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہونے کا امکان ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دسمبر میں پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا شیڈول واپس لے لیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں معزز ممبرانِ کمیشن، سیکرٹری اور سینئر افسران نے شرکت کی، پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر تفصیلی غور کیا گیا، سیکرٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے کمیشن کو جامع بریفنگ دی گئی۔ دوران بریفنگ سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 منظور کر لیا ہے، گورنر پنجاب نے بھی لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی، نئے ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 منسوخ ہوگیا، ایکٹ 2022ء کے تحت جاری حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن واپس لینا چاہیے۔ جلاس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دسمبر میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا شیڈول واپس لے لیا، الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کو مزید 4 ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے پنجاب بلدیاتی انتخابات کی حلقہ بندیوں کا کام روک دیا۔ بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کا شیڈول واپس لینے کا فیصلہ پنجاب حکومت کی درخواست پر کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تحت کرانے کا فیصلہ کر لیا، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے تحت دیا گیا حلقہ بندی کا شیڈول واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کو حلقہ بندی اور ڈیمارکیشن رولزکیلئے 4 ہفتے دے دیئے، حلقہ بندی اور ڈیمارکیشن رولز کیلئے دی گئی مہلت میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا، حکام کے مطابق مقررہ مدت میں کام نہ ہوا تو معاملے کی سماعت کرکے مناسب فیصلہ کریں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔