’’ خبرپختونخوا حکومت بلٹ پروف گاڑیاں نہیں لے رہی تو پھر یہ ہمیں دیدیں ‘‘وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی محسن نقوی سے درخواست
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) پولیس کی بلٹ پروف گاڑیوں پر وفاق اور خیبرپختونخوا کے تنازع میں بلوچستان حکومت کود پڑی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی طرح بلوچستان بھی دہشتگردی سے متاثر ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی سے درخواست ہے کہ کے پی حکومت بلٹ پروف گاڑیاں نہیں لےرہی تو ہمیں دےدیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے اضافی حفاظتی سامان درکار ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی وزارت داخلہ نے کے پی پولیس کے لیے بلٹ پروف گاڑیاں آئی جی کے پی کے حوالے کی تھیں مگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق کی جانب سے پولیس کو دی گئیں بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرنےکی ہدایت کی ہے۔
تحریک انصاف کے 3 اراکین کے دستخطوں کے بغیر ہی محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کی درخواست جمع کرادی گئی
وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا ہےکہ وفاق نے خیبرپختونخوا کو ناقص گاڑیاں دی ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بلٹ پروف گاڑیاں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔