ایندھن کی قلت کا معاملہ، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے خطرے کی گھنٹی بجادی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
ایندھن کی قلت کا معاملہ، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے خطرے کی گھنٹی بجادی WhatsAppFacebookTwitter 0 22 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ایندھن کی قلت کا معاملے میں صورت حال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے لازمی بینک گارنٹی کے مطالبے پر آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے وزارت توانائی، پیٹرولیم ڈویژن کو ہنگامی خط ارسال کردیا، جس میں صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا گیا ہے۔
او سی اے سی نے اپنے خط میں بتایا ہے کہ اگر بینک گارنٹی کا مسئلہ برقرار رہا تومستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی امپورٹ نہیں کی جاسکے گی اور امپورٹ نہ ہونے کی صورت میں سپلائی چین کے اثرات کی ذمہ دار انڈسٹری نہیں ہوگی۔خط میں کہا گیا ہے کہ کئی سال سے حکومتوں کو یہ مسئلہ حل کرنے کی تجویز دی ہے۔ وزارت توانائی کی فوری مدد ایندھن کی بلا تعطل سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔ پیٹرولیم صنعت کی طرف سے ہر ماہ 20 سے 25 کنسائنمنٹس درآمد کیے جاتے ہیں اور ایک کنسائنمنٹ کی مالیت 15 سے 25 ارب روپے ہوتی ہے ۔او سی اے سی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ صنعت میں کوئی بھی رکن اس حد تک بینک گارنٹی فراہم کرنے کی مالی صلاحیت نہیں رکھتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرریاست کیخلاف بندوق اٹھانے والوں، غیر قانونی رہائشیوں کیلئے پنجاب کی زمین تنگ ریاست کیخلاف بندوق اٹھانے والوں، غیر قانونی رہائشیوں کیلئے پنجاب کی زمین تنگ افغانستان کے ساتھ معاہدے میں واضح ہے کہ کوئی دراندازی نہیں ہوگی، وزیرِ دفاع سیاسی اختلافات کی آڑ میں پنجاب حکومت عوام کے بنیادی حقوق سلب کر رہی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، غزہ سمیت خطے کی صورتحال پر گفتگو شمالی وزیرستان، فتنہ الخوارج کی درندگی، بھتہ نہ دینے پر 6افراد کو گاڑی میں جلا دیا بانی پی ٹی آئی سے جیل میں ملاقات بارے تمام کیسز لارجر بینچ میں سماعت کیلئے مقررCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے ایندھن کی
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔