لاہور،ڈور پھرنے سے نوجوان جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:صوبائی دارالحکومت لاہور میں پتنگ بازی نے ایک اور جان لے لی، ڈور پھرنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ڈور پھرنے کا واقعہ تھانہ نواں کوٹ کے علاقے میں پیش آیا، مزنگ کا رہائشی نوجوان گھر واپس جا رہا تھا کہ گلے پر ڈور پھر گئی۔ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ ڈور پھرنے سے 21 سالہ موٹر سائیکل سوار نوجوان نعمان یوسف کی گردن کٹ گئی، نعمان یوسف کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا لیکن راستے میں دم توڑ گیا۔
پولیس کے مطابق نعمان میڈیکل ریپ تھا، مرحوم گھر کا بڑا بیٹا اور اکیلا کمانے والا تھا، مرحوم کا ایک چھوٹا بھائی اور دو بہنیں ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں ڈور پھرنے کے دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو انسانی جان کے ضیاع کا افسوسناک نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے سی سی پی او لاہور سے واقعے کی فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔