75 سالہ دادی کے شاندار ڈانس اور زبردست فلپ نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
ایک بھارتی بزرگ خاتون نے اپنے دھماکے دار ڈانس سے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔
انسٹاگرام پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں 75 سالہ دادی کو مشہور گانے ’’دو گھونٹ پلا دے ساقیا‘‘ پر اس انداز سے ناچتے دیکھا گیا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔
ڈانس کے دوران دادی نے ایسا خوبصورت فرنٹ فلپ لگایا کہ پورا مجمع ششدر رہ گیا۔ وہاں موجود لوگ اس سین کو اپنے موبائل کیمروں میں قید کرتے رہے، اور کئی تو حیرت سے منہ کھولے رہ گئے کہ اس عمر میں کوئی اتنی پھرتی کیسے دکھا سکتا ہے!
View this post on Instagram
ویڈیو کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک اسے 4 کروڑ 74 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جبکہ ہزاروں افراد تبصرے کرکے دادی کی توانائی اور جاندار پرفارمنس کو سراہ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل بھی دلچسپ رہا۔ ایک صارف نے لکھا ’’پرانے کھلاڑی پھر میدان میں اتر آئے!‘‘ دوسرے نے مزاحیہ انداز میں کہا ’’اور ادھر میں 36 سال کی عمر میں کمر کے درد سے لڑ رہا ہوں!‘‘
ایک اور تبصرہ کچھ یوں تھا ’’لوگ بڑھی عمر کو شوق کے ختم ہونے سے جوڑ دیتے ہیں، جبکہ یہ ’بوڑھے‘ لوگ کبھی بچے، نوجوان اور زندگی سے بھرپور تھے۔ آج کے بزرگ تو فٹ ہیں، وہ تو ہم ہوں گے جو 70 پر وہیل چیئر پر بیٹھے ہوں گے!‘‘
ایک اور صارف نے حیرت سے لکھا ’’ذرا سوچیں، جوانی میں دادی کیسا ڈانس کرتی ہوں گی!‘‘
View this post on Instagram.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔