data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روزانہ کا سامان لینے بازار گیا تو جب سبزی والے نے ٹماٹر کی قیمت بتائی تو پہلے تو سماعت کا ثقل لگا اور اوسان خطا ہو گئے کہ ٹماٹر آٹھ سو روپے کلو؟ یقین نہیں آیا تو دوبار سہ بارہ پوچھا لیکن جب جواب وہی آیا تو چار و ناچار یقین کرنا پڑا۔ یہ منہ اور مسور کی دال تو سنا تھا اب یہ منہ اور ٹماٹر کا سواد کا اور اضافہ ہوگیا ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو پھر عوام صرف ہوا خوری ہی کر پائے گی۔ منافع خوروں نے ہر چیز ٹرائی کر لی تھی۔ یہ ٹماٹر ان کے ذوق تسکین سے اوجھل تھے وہ بھی ہماری چکن کڑاہی کے شوق کی بناء پر ان کی نظروں میں آگئے اور بالآخر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی ان کے مشق ستم کا نشانہ بن گئی۔ ہماری بیگم چکن میں بہ وزن جس قدر ٹماٹر ڈالتی ہیں اب قیمتاً وہ دونوں ہم وزن ہو گئے ہیں۔ اندھیر نگری چوپٹ راج۔ ٹکے سیر کھاجہ ٹکے سیر بھاجی۔ ہمارا حساب کتاب ویسے بھی کمزور ہے۔ بیگم اکثر یہی کہتی ہیں کہ سبزی والا ہم سے زیادہ پیسے وصول کر لیتا ہے۔ ساری قیمتیں حکومت اگر یکساں کر دے تو یہ دھڑکا بھی جاتا رہے گا۔
نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
لٹنے کے لیے عوام کے پاس اب بچا بھی کیا ہے؟ ایک عزت سادات تھی وہ کسی طرح بیرون ملک برآمد کرکے بچا پا رہے ہیں باقی تو آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا والا حال ہے۔ سر چھپاتے ہیں تو پاؤں ننگا ہوتا ہے اور پاؤں چھپاتے ہیں تو سر کھل جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غریب ترین آدمی کو بھی جینے کے لیے فی کس پینتیس ہزار روپے ماہانہ چاہیے اور ہم سوچ رہے ہیں کہ اتنی آمدنی پاکستان میں آخر کتنے لوگوں کی ہے؟ ہم خود بوڑھے ہوچکے ہیں لیکن اپنے بڑے بوڑھوں سے سنا کرتے تھے کہ کبھی سستا زمانہ بھی ہوا کرتا تھا۔ سارا مہینہ اہل دہل سے کھا کر بھی بہت سارا بچ رہتا تھا جسے الماری میں رکھ کر آرام سے پاؤں پسار کر سو جاتے تھے کہ چوری چکاری کا ڈر بھی نہیں تھا۔ اب تو حالت یہ ہے کہ عوام ٹیکس بھی دے۔ چالان بھی بھرے۔ رشوت بھی دے۔ بھتا بھی دے۔ دن دہاڑے مال و متاع بھی لٹوائے اور اغواء برائے تاوان کے لیے بھی تیار رہے۔ سیاست دانوں اور سرکاری عمال سے جو کچھ بچ جاتا ہے وہ انہیں کے پالے ہوئے غنڈے لوٹ مار کر کے لے جاتے ہیں۔ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز اگر ہوتی ہے وہ مملکت خدا داد میں نہیں ہوتی ہے۔ سرکار آخر اپنی سیکورٹی کے لیے اتنا لمبا چوڑا انتظام کیوں کرتی ہے؟ اور سرکاری بھی کیا ہے؟ سیاسی پارٹیوں کا ایک جتھا ہے جو کہ بوٹ پالش کے ذریعے اقتدار میں آتے ہیں اور مال مفت دل بے رحم کا حال احوال کرتے ہیں۔ الیکشن قریب آتے ہیں تو شراکت کی ہنڈیا چوراہے پر پھوٹتی ہے۔ جوتیوں میں دال بٹتی ہے۔ اور جب چناؤ جیت جاتے ہیں تو پھر ان کے پیٹ مل جاتے ہیں۔
ہماری حکومت عوام سے کس طرح پیسے ہتھیانے اس کے لیے پارلیمنٹ میں نئے نئے طریقے ایجاد کیے جاتے ہیں اور جو طریقے ایجاد نہیں ہو پاتے ہیں وہ آئی ایم ایف انہیں سجھا دیتی ہے۔ حکمرانوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور سر کڑاہی میں، بس جی یہی چاہتا ہے کہ کوئی اس کڑاہی میں آگ لگا دے۔ ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اتنے زیادہ ہیں کہ آئی ایم ایف انہیں کم کرنے کا حکم صادر فرما چکی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت سنی ان سنی کیے بیٹھی ہے۔ اور کیوں نہ کرے جیسے مرد میں جب تک پانچوں شرعی عیب نہ ہوں مرد تسلیم نہیں کیا جاتا ہے اسی طرح ہماری حکومت کے تو پانچوں ستونوں میں پانچوں شرعی عیب بدرجہ اتم موجود ہیں اور اسی لیے انہیں حکومت تسلیم کیا جاتا ہے۔ ملی بھگت کے بغیر ان کا گزارا نہیں ہے۔ دن میں غریبوں کا خون نچوڑ کر کماتے ہیں اور رات میں اُڑاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو دل میں یہ خیال آتا ہے کہ یہ کیا واقعی مسلمانوں کا ملک ہے اور اسلام کے نام پر بنا تھا؟ حکمران سے لے کر عوام تک بے ایمانی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے کیا دیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس ملک میں نہ حالات سدھریں گے اور نہ انقلاب آئے گا کیونکہ عوام و خواص دونوں بے ایمان ہیں اور ایماندار موقع کی تاک میں ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ سنیما کے ٹکٹ بلیک کرنے والے، منشیات کا کاروبار والے، زمینوں پر قبضہ کرنے والے، بینکوں سے قرضہ لے کر ہڑپ کر جانے والے، اغواء برائے تاوان کرنے والے، رشوتیں لے کر ملازمت کے جھانسے دینے والے، سپاری لے کر قتل کرنے والے، اسمگلنگ کرنے والے اور گینگ چلانے والے زمام حکومت سنبھالے بیٹھے ہوں تو اس ملک میں بہتری کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ معدودے چند شریف شرفا ٹکر ٹکر حالات کو دیکھ رہے ہیں کہ علامہ اقبال نے کیا اسی پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور کیا قائد اعظم یہی پاکستان بنانا چاہتے تھے؟ جب پرانی نسل کنفیوز ہے تو نئی نسل کو کیا بتائے کہ پاکستان کے کیا خدو خال کینوس پر بنائے گئے تھے اور حقیقت میں کیا بن گیا ہے۔
آدھے سے زیادہ پاکستان گنوا کر بھی ہم سمجھ نہیں پائے ہیں کہ آخر ہماری منزل ہے کیا؟ وہی صورتحال جو مشرقی پاکستان میں تھی اب سارے پاکستان میں ہے۔ کمزور اور چھوٹے صوبوں میں اب بھی غدار جنم لے رہے ہیں اور ان کی سرکوبی کی جا رہی ہے۔ حکومت کی ترجیحات ہیں کیا یہ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ ملک سیلاب اور قدرتی آفات سے بے حال ہے۔ کارخانے دار حالات سے تنگ اگر کارخانے بند کر رہا ہے۔ لوگ بیروزگار ہو رہے ہیں۔ آدھی آبادی خط غربت کے نیچے آ چکی ہے۔ لوگ ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں یا بھاگنا چاہتے ہیں۔ لیکن ٹیلی وژن دیکھو تو معاشی پالیسی ایسی کامیاب ہے کہ ملک میں ہر طرف خوش حالی ہی خوش حالی ہے۔ زراعت میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے۔ کارخانوں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ بینکوں کو سرمایہ کاری کے لیے قرضے دینے سے فرصت نہیں ہے۔ ملک چاند پر پہنچ گیا ہے۔ خارجہ پالیسی ایسی تیر بہدف ہے کہ ہر طرف ہماری واہ واہ اور آؤ بھگت ہو رہی ہے۔ دشمنوں کے دانت کھٹے کر دیے گئے ہیں۔ انصاف کا بول بالا ہے۔ لڑکیاں بالیاں سونا اچھالتی ہوئی بلا خوف و خطر ادھر سے ادھر اٹکھیلیاں کرتی پھرتی ہیں۔ جرائم کی شرح تقریباً صفر ہے اور اسکولوں اور کالجوں کا ایسا جال بچھا ہوا ہے کہ کوئی بچہ تعلیم سے رہ نہ جائے اور صحت کی وہ سہولتیں ہیں کہ کوئی علاج سے محروم نہیں۔ ہمارا تو سوال صرف یہ ہے کہ ہم آخر کس کو دھوکا دے رہے ہیں؟ جب بچے بچے تک کو پتا ہے کہ بادشاہ بھی ننگا ہے۔ مصاحب بھی ننگے ہیں اور سرکاری عمال بھی ننگے ہیں۔ ملک سے میرٹ کا نظام ختم کرکے جب اقربا پروری کا نظام لاگو کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں کو بیچ کر مال بنایا جاتا ہے۔ انصاف کی قیمت لگائی جاتی ہے۔ بین الاقوامی معاملات میں ہم نے برائے فروخت کا بورڈ آویزاں کیا ہوا ہے۔ اصولی سیاست کو مصلحت پر قربان کر دیتے ہیں۔ ظلم کو حکمت عملی کا نام دیا جاتا ہے۔ قرآن کی آیات کا استعمال کرکے ہم اپنی غلط کاریوں کو عین دیں ثابت کرتے ہیں تو پھر ہم کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟ کیا آسمان سے پتھر برسنے کا یا زمین کے آگ اگلنے گا یا پھر دریاؤں اور سمندروں کے بپھرنے کا؟
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں کرنے والے جاتے ہیں ملک میں ہیں اور جاتا ہے رہے ہیں ہیں کہ کے لیے ہیں تو گیا ہے
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔